خلع کے بڑھتے کیسز: خواتین نے تو انی مچا دی اے ، غربت، سماجی تبدیلی یا خواتین میں بڑھتا شعور آزادی ؟
خلع کے بڑھتے کیسز: خواتین نے تو انی مچا دی اے ، غربت، سماجی تبدیلی یا خواتین میں بڑھتا شعور آزادی ؟
رپورٹ آفاق فاروقی
اسلام آباد، کراچی اور لاہور سمیت پاکستان کے بڑے شہروں میں خلع کے مقدمات میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ تاہم یہ بات واضح رہنی چاہیے کہ پاکستان میں خلع کے مقدمات کا کوئی مکمل اور مرکزی قومی ریکارڈ عوامی سطح پر دستیاب نہیں، اس لیے مختلف عدالتی اور میڈیا رپورٹس کی بنیاد پر سامنے آنے والے اعداد و شمار کو تخمینی سمجھا جانا چاہیے، نہ کہ حتمی سرکاری اعداد و شمار۔
حالیہ رپورٹس کے مطابق اسلام آباد کی فیملی کورٹس میں روزانہ 300 سے زائد خلع اور خاندانی تنازعات کے نئے مقدمات درج ہو رہے ہیں جبکہ سال 2026 کے دوران ایسے مقدمات کی تعداد 45 ہزار سے تجاوز کر چکی ہے۔ بعض رپورٹس میں ماہانہ تقریباً 9 ہزار نئے مقدمات درج ہونے کا دعویٰ بھی کیا گیا ہے
دوسری جانب کراچی کی فیملی کورٹس میں 2024 کے دوران خلع کے مقدمات کی تعداد 11 ہزار سے تجاوز کر گئی، جو 2020 کے مقابلے میں تقریباً دوگنا اضافہ ظاہر کرتی ہے۔ رپورٹس کے مطابق کراچی میں اوسطاً 30 سے زائد خواتین روزانہ خلع کے لیے عدالتوں سے رجوع کر رہی ہیں
لاہور میں بھی خلع کے مقدمات میں مسلسل اضافہ رپورٹ ہو رہا ہے۔ مختلف عدالتی اور بلدیاتی اعداد و شمار کے مطابق شہر میں سالانہ ہزاروں خواتین خلع کے لیے درخواستیں دائر کر رہی ہیں، جس سے یہ تاثر مضبوط ہوتا ہے کہ یہ رجحان صرف ایک شہر تک محدود نہیں بلکہ ملک کے بڑے شہری مراکز میں یکساں طور پر بڑھ رہا ہے۔ جبکہ جون دو ہزار چھبیس کے پہلے تین دنوں میں ضلع گجُرات میں نو سو سے زائد خلع کے مقدمات دائر کیے گئے ہیں
ماہرین اس رجحان کی کئی وجوہات بیان کرتے ہیں۔ اسلام آباد کی عدالتی رپورٹس میں وکلاء نے بے روزگاری، مہنگائی، منشیات کے بڑھتے استعمال اور معاشی دباؤ کو ازدواجی تنازعات کی اہم وجوہات قرار دیا ہے
تاہم صرف معاشی عوامل ہی اس اضافے کی وضاحت نہیں کرتے۔ جدید سماجی علوم کے مطابق جب خواتین کی تعلیم، معاشی خودمختاری اور قانونی آگاہی میں اضافہ ہوتا ہے تو وہ ناقابل برداشت یا غیر مساوی ازدواجی تعلقات کو جاری رکھنے کے بجائے قانونی راستہ اختیار کرنے لگتی ہیں۔ جرمن ماہرِ عمرانیات میکس ویبر کا خیال تھا کہ جدید معاشروں میں افراد روایتی سماجی دباؤ کے بجائے ذاتی انتخاب اور قانونی حقوق کو زیادہ اہمیت دیتے ہیں۔ اسی طرح امریکی ماہر نفسیات ابراہم میسلو کے نظریۂ ضروریات کے مطابق انسان صرف روٹی اور معاشی تحفظ ہی نہیں بلکہ عزت، خودمختاری اور ذہنی سکون بھی چاہتا ہے
سوشل میڈیا اور ڈیجیٹل ذرائع بھی اس تبدیلی میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ آج خواتین اپنے قانونی حقوق، خلع کے طریقہ کار اور دیگر خواتین کے تجربات سے پہلے کے مقابلے میں کہیں زیادہ واقف ہیں۔ اس کے نتیجے میں وہ ایسے مسائل کو برداشت کرنے کے بجائے قانونی چارہ جوئی کا راستہ اختیار کر رہی ہیں جنہیں ماضی میں خاندانی یا سماجی دباؤ کے باعث چھپایا جاتا تھا
ماہرین کے مطابق خلع کے بڑھتے ہوئے مقدمات کو صرف “خاندانی نظام کے بحران” کے طور پر دیکھنا درست نہیں ہوگا۔ یہ رجحان ایک طرف معاشی مشکلات، بے روزگاری اور سماجی دباؤ کی نشاندہی کرتا ہے تو دوسری طرف خواتین میں بڑھتی ہوئی قانونی آگاہی، تعلیم اور خودمختاری کی عکاسی بھی کرتا ہے۔ حقیقت شاید ان دونوں عوامل کے امتزاج میں پوشیدہ ہے
پاکستان کے بڑے شہروں میں خلع کے مقدمات کا مسلسل بڑھنا ایک اہم سماجی اشارہ ہے جو ریاست، عدلیہ، سماجی ماہرین اور پالیسی سازوں کے لیے سنجیدہ غور و فکر کا متقاضی ہے


