Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

ہومامریکہواشنگٹن سے یورپ تک: ٹرمپ کی کمیونزم خطرے والی تقریر، سیاسی پیغام...

ٹرینڈنگ

واشنگٹن سے یورپ تک: ٹرمپ کی کمیونزم خطرے والی تقریر، سیاسی پیغام یا انتخابی حکمتِ عملی

واشنگٹن سے یورپ تک: ٹرمپ کی کمیونزم خطرے والی تقریر، سیاسی پیغام یا انتخابی حکمتِ عملی
تجزیہ: آفاق فاروقی

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے امریکہ کی 250ویں سالگرہ کے موقع پر کئیے گئے خطاب میں ایک بار پھر یہ مؤقف سامنے آیا ہے کہ ملک کو “سوشلزم اور کمیونزم کے خطرات” کا سامنا ہے۔ یہ بیان فوری طور پر امریکی سیاسی اور میڈیا حلقوں میں بحث کا مرکز بن گیا ہے، جہاں اسے زیادہ تر ایک نظریاتی خطرے سے زیادہ انتخابی سیاست کا حصہ قرار دیا جا رہا ہے
امریکی اور یورپی تجزیہ کاروں کے مطابق ٹرمپ کا اشارہ کسی کلاسیکی کمیونسٹ تحریک کی طرف نہیں تھا بلکہ جدید امریکی بائیں بازو کی اس سیاسی سوچ کی طرف تھا جس کی نمائندگی برنی سینڈرز، الیگزینڈریا اوکاسیو-کورٹیز اور نیویارک کی مقامی سیاست میں ابھرتے ہوئے ترقی پسند رہنما اور نیویارک کے مئیر زہران ممدانی جیسے سیاستدان کرتے ہیں۔ تاہم یہ رہنما خود کو کمیونسٹ کے بجائے “سوشل ڈیموکریٹک” یا “ڈیموکریٹک سوشلسٹ” اصلاح پسند تحریکوں سے جوڑتے ہیں
امریکی میڈیا میں اس بحث کو “ریڈ اسکیئر” یعنی کمیونزم کے خوف کو سیاسی طور پر دوبارہ زندہ کرنے کی کوشش قرار دیا جا رہا ہے، جو سرد جنگ کے دور میں ایک مؤثر سیاسی ہتھیار رہا ہے۔ تھنک ٹینکس کے مطابق امریکہ میں اس وقت کوئی منظم کمیونسٹ تحریک موجود نہیں، بلکہ اصل بحث صحت، تعلیم، رہائش اور ٹیکس کے نظام میں اصلاحات کے گرد گھوم رہی ہے
یورپی مبصرین اس بحث کو مزید مختلف زاویے سے دیکھتے ہیں،ان کے مطابق یورپ کے کئی ترقی یافتہ ممالک پہلے ہی سوشل ڈیموکریٹک ماڈل پر چل رہے ہیں جہاں یونیورسل ہیلتھ کیئر، مضبوط فلاحی نظام اور زیادہ ٹیکس کے ذریعے دولت کی نسبتاً منصفانہ تقسیم کو یقینی بنایا جاتا ہے،اس تناظر میں امریکی بائیں بازو کے بیشتر مطالبات یورپی معیار کے مطابق “انقلابی” نہیں بلکہ اصلاحاتی نوعیت کے سمجھے جاتے ہیں
امریکہ کے اندر معاشی اعداد و شمار بھی اس بحث کو پیچیدہ بناتے ہیں ، ماہرین کے مطابق ملک میں دولت کی غیر مساوی تقسیم مسلسل بڑھ رہی ہے، جہاں ایک چھوٹا طبقہ مجموعی دولت کا بڑا حصہ کنٹرول کرتا ہے، جبکہ متوسط اور نچلے طبقے پر مہنگائی اور صحت کے اخراجات کا دباؤ بڑھ رہا ہے، اسی پس منظر میں برنی سینڈرز جیسے سیاستدان یہ مؤقف پیش کرتے ہیں کہ موجودہ سرمایہ دارانہ نظام کو مکمل طور پر بدلنے کے بجائے اسے زیادہ فلاحی اور متوازن بنانے کی ضرورت ہے
تاریخی طور پر بھی امریکہ خود مکمل طور پر “لِیسے فئیر” سرمایہ دارانہ نظام پر قائم نہیں رہا۔ 1930 کی دہائی میں نیو ڈیل اصلاحات کے ذریعے سوشل سیکیورٹی، بے روزگاری بیمہ اور مزدور حقوق جیسے فلاحی اقدامات متعارف کروائے گئے تھے، جو آج بھی امریکی معیشت کا بنیادی حصہ ہیں
ان تمام تجزیوں کی روشنی میں ماہرین کا مجموعی نتیجہ یہ ہے کہ “کمیونزم یا سوشلزم کا خطرہ” زیادہ تر ایک سیاسی بیانیہ ہے، جبکہ اصل بحث امریکی معاشرے میں بڑھتی ہوئی معاشی ناہمواری اور فلاحی ریاست کے دائرہ کار پر اختلافات کی ہے

مزید پڑھیں