تروپتی مندر کی اربوں کی چندہ رقم کیسے محفوظ اور منظم کی جاتی ہے، اور ایودھیا رام مندر کے لیے بھی یہی ماڈل ممکن
تروپتی مندر کی اربوں کی چندہ رقم کیسے محفوظ اور منظم کی جاتی ہے، اور ایودھیا رام مندر کے لیے بھی یہی ماڈل ممکن
بھارت کے مشہور مذہبی مرکز تروپتی بالاجی مندر میں آنے والے زائرین کی جانب سے دی جانے والی ہنڈی (نذرانے) کی مجموعی رقم مالی سال 2025-26 میں تقریباً 1,738 کروڑ روپے تک پہنچ گئی ہے۔ اتنی بڑی رقم کی روزانہ بنیاد پر وصولی، گنتی، حفاظت اور انتظام ایک انتہائی منظم اور جدید نظام کے تحت کیا جاتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق مندر انتظامیہ نے اس پورے مالیاتی نظام کو انتہائی سخت سیکیورٹی اور جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے منظم کر رکھا ہے، تاکہ نقدی اور قیمتی نذرانوں کی شفافیت اور حفاظت یقینی بنائی جا سکے۔ ہر دن ہنڈی سے جمع ہونے والی رقم کو مخصوص حفاظتی عمل کے تحت کھولا جاتا ہے، جہاں مختلف مراحل میں گنتی کی جاتی ہے اور اس کے بعد اسے بینکنگ نظام میں جمع کرا دیا جاتا ہے۔
اس عمل میں بڑی تعداد میں رضاکار، سیکیورٹی اہلکار اور تربیت یافتہ عملہ شامل ہوتا ہے، جبکہ سی سی ٹی وی نگرانی اور آڈٹ سسٹم بھی پورے عمل کو شفاف رکھنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق مندر انتظامیہ اب اس نظام میں مزید خودکار (آٹومیشن) ٹیکنالوجی متعارف کروا رہی ہے، جس کے تحت رقم کی گنتی، ریکارڈنگ اور بینکنگ کے مراحل مزید تیز اور محفوظ بنائے جا رہے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہی ماڈل مستقبل میں رام مندر ایودھیا کے لیے بھی اپنایا جا سکتا ہے، جہاں زائرین کی بڑھتی ہوئی تعداد کے پیش نظر بڑے پیمانے پر عطیات اور مالی لین دین متوقع ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اس طرزِ انتظام میں شفافیت، ٹیکنالوجی کا استعمال اور ادارہ جاتی نگرانی بنیادی ستون ہیں، جو مذہبی اداروں کے مالیاتی نظام کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرتے ہیں


