Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

ہومپاکستانآئینی اصلاحات کا راستہ؟ گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کی نمائندگی کا...

ٹرینڈنگ

آئینی اصلاحات کا راستہ؟ گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کی نمائندگی کا دیرینہ سوال ایک بار پھر زیرِ بحث

آئینی اصلاحات کا راستہ؟ گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کی نمائندگی کا دیرینہ سوال ایک بار پھر زیرِ بحث

پاکستان کے آئینی ڈھانچے اور وفاقی نظام کے حوالے سے ایک بار پھر اہم بحث سامنے آئی ہے کہ کیا ملک میں آئینی اصلاحات کے ذریعے آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان کو وفاقی پارلیمان میں براہِ راست نمائندگی دی جا سکتی ہے؟

یہ سوال حالیہ قومی اسمبلی میں بجٹ بحث کے دوران اس وقت شدت اختیار کر گیا جب پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے مؤقف اختیار کیا کہ دونوں خطوں—آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان—کو وفاقی پارلیمان میں براہِ راست نمائندگی دی جانی چاہیے، جبکہ گلگت بلتستان کو عبوری صوبائی حیثیت دینے کی بھی حمایت کی، تاہم ان کے مطابق اس اقدام سے مسئلہ کشمیر پر پاکستان کے سرکاری مؤقف یا اقوام متحدہ کی قراردادوں پر کوئی اثر نہیں پڑنا چاہیے۔

تجزیہ کار اور سابق آئی جی سندھ افضال علی شگری کے مطابق تاریخی طور پر برصغیر کی تقسیم کے بعد یہ دونوں علاقے مختلف سیاسی اور آئینی راستوں سے گزرے۔ ان کے مطابق گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر نے مہاراجۂ جموں و کشمیر کے خلاف بغاوت کے بعد اپنے اپنے علاقوں پر کنٹرول حاصل کیا، مگر بعد میں ان کی آئینی ترقی مختلف سمتوں میں گئی۔

آزاد کشمیر نے ایک نسبتاً منظم سیاسی ڈھانچہ تشکیل دیا جس میں منتخب اسمبلی، وزیرِاعظم اور صدر کا نظام شامل ہے، تاہم یہ نظام وفاقی نگرانی کے دائرے میں رہتا ہے۔

اس کے برعکس گلگت بلتستان طویل عرصے تک براہِ راست اسلام آباد کے انتظامی کنٹرول میں رہا، جہاں انتظامی امور زیادہ تر بیوروکریسی کے ذریعے چلائے جاتے رہے۔ اس صورتحال کو ناقدین ایک ایسا نظام قرار دیتے ہیں جس میں مقامی نمائندگی اور سیاسی حقوق محدود رہے۔

مضمون میں یہ بھی نشاندہی کی گئی ہے کہ خطے میں انتظامی ڈھانچہ طویل عرصے تک نوآبادیاتی طرزِ حکمرانی سے متاثر رہا، جس سے مقامی آبادی میں نمائندگی اور آئینی حقوق کے حوالے سے مسلسل بے چینی اور مطالبات پیدا ہوتے رہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق اصل سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان اپنے وفاقی ڈھانچے میں ایسی آئینی اصلاحات لا سکتا ہے جو ایک طرف ان خطوں کو زیادہ نمائندگی دے اور دوسری طرف کشمیر کے بین الاقوامی تنازعے پر اپنے مؤقف کو بھی برقرار رکھ سکے

مزید پڑھیں