غزہ میں ایک ہزار دن کی جنگ: تباہی، بھوک اور انسانی المیے کی ہولناک تفصیلات
غزہ میں ایک ہزار دن کی جنگ: تباہی، بھوک اور انسانی المیے کی ہولناک تفصیلات
غزہ کی پٹی میں جاری جنگ کو ایک ہزار دن مکمل ہو گئے ہیں، اور اس عرصے میں ہونے والی تباہی کے حوالے سے فلسطینی حکومتی میڈیا دفتر نے جو اعداد و شمار جاری کیے ہیں وہ انسانی تاریخ کے سنگین ترین بحرانوں میں سے ایک کی تصویر پیش کرتے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق اس عرصے میں غزہ کے 90 فیصد سے زائد علاقے کو شدید نقصان پہنچا ہے اور بڑے پیمانے پر رہائشی علاقے، بنیادی ڈھانچہ، اسپتال، اسکول اور سڑکیں کھنڈرات میں تبدیل ہو چکی ہیں۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ اس وقت غزہ کی پٹی کے 80 فیصد سے زیادہ حصے پر فوجی کنٹرول قائم کیا جا چکا ہے۔
فلسطینی حکام کے مطابق سات اکتوبر 2023 کے بعد شروع ہونے والی اسرائیلی بمباری اور فوجی کارروائیوں کے نتیجے میں اب تک 73 ہزار سے زیادہ فلسطینی ہلاک ہو چکے ہیں، جبکہ لاکھوں افراد بے گھر ہو کر خیمہ بستیوں اور عارضی پناہ گاہوں میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔
رپورٹ میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ 24 لاکھ کی آبادی پر مشتمل اس خطے کو شدید خوراکی قلت، بھوک، اور بنیادی ضروریات کی کمی جیسے بحرانوں کا سامنا ہے، اور انسانی صورتحال روز بروز بدتر ہو رہی ہے۔
یہ اعداد و شمار فلسطینی حکومتی میڈیا دفتر کی جانب سے جاری کیے گئے ہیں، جبکہ آزاد ذرائع سے ان کی مکمل تصدیق ممکن نہیں ہو سکی۔ تاہم بین الاقوامی ادارے مسلسل اس خطے میں انسانی بحران، شہری ہلاکتوں اور بنیادی ڈھانچے کی تباہی پر تشویش کا اظہار کرتے آ رہے ہیں۔
جنگ کے اس طویل دورانیے نے مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال کو مزید پیچیدہ کر دیا ہے، اور عالمی سطح پر جنگ بندی اور انسانی امداد کی اپیلیں مسلسل جاری ہیں


