لاہور کے پھیلاؤ نے دریائے راوی کے قدرتی سیلابی میدان کو خطرے میں ڈال دیا، سیٹلائٹ تصاویر کا سنسنی خیز انکشاف
لاہور کے پھیلاؤ نے دریائے راوی کے قدرتی سیلابی میدان کو خطرے میں ڈال دیا، سیٹلائٹ تصاویر کا سنسنی خیز انکشاف
لاہور سے آنے والی ایک تازہ سائنسی رپورٹ نے شہر کی تیز رفتار توسیع اور ماحولیاتی خطرات کے بارے میں خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔ پینتیس برسوں پر محیط سیٹلائٹ تصاویر کے تقابلی جائزے سے یہ حقیقت سامنے آئی ہے کہ شہر تیزی سے دریائے راوی کے اس قدرتی حصے کی طرف بڑھتا چلا گیا ہے جہاں صدیوں سے سیلابی پانی اپنی قدرتی گزرگاہ بناتا آیا ہے۔
یہ وہ زمین ہے جو بظاہر خشک اور قابلِ استعمال دکھائی دیتی ہے، مگر مون سون کے موسم میں یہی علاقہ دریا کے بپھرے ہوئے بہاؤ کو سنبھالنے کی قدرتی صلاحیت رکھتا ہے۔ اب ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ اس قدرتی نظام میں مداخلت نے خطرات کو کئی گنا بڑھا دیا ہے۔
سیٹلائٹ مشاہدات کے مطابق 1990 کے بعد سے لاہور کی آبادی، سڑکیں، رہائشی بستیاں اور تعمیراتی ڈھانچے تیزی سے اس جانب بڑھتے رہے ہیں، یہاں تک کہ دریا کے قدرتی راستے اور سیلابی پھیلاؤ کے علاقے سکڑنے لگے ہیں۔ ماہرین کے مطابق یہ صورتحال کسی بھی شدید بارش یا غیر معمولی مون سون میں بڑے پیمانے پر تباہی کا سبب بن سکتی ہے۔
آبی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر سیلابی میدانوں کو اسی طرح تعمیرات کے لیے استعمال کیا جاتا رہا تو پانی کے بہاؤ کی قدرتی گنجائش ختم ہوتی جائے گی، جس کے نتیجے میں دریا کناروں سے باہر نکل کر آبادیوں کو اپنی لپیٹ میں لے سکتا ہے۔
دوسری جانب ترقیاتی ادارے کا مؤقف ہے کہ متاثرہ علاقوں میں تحفظ کے لیے منصوبہ بندی موجود ہے اور مستقبل کے سیلابی خطرات سے نمٹنے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
تاہم ماہرین اس بات پر متفق دکھائی دیتے ہیں کہ اصل مسئلہ منصوبہ بندی کی رفتار اور قدرتی نظام کے درمیان بڑھتا ہوا فرق ہے، جو آنے والے برسوں میں لاہور کے لیے ایک سنگین ماحولیاتی چیلنج بن سکتا ہے


