اے آئی کی عالمی سیاست میں بڑی پیش رفت: اوپن اے آئی امریکی حکومت کو حصص دینے پر غور، ٹیک دنیا میں نئی ہلچل
اے آئی کی عالمی سیاست میں بڑی پیش رفت: اوپن اے آئی امریکی حکومت کو حصص دینے پر غور، ٹیک دنیا میں نئی ہلچل
واشنگٹن (ٹیک پالیسی ڈیسک) — مصنوعی ذہانت کے سب سے بڑے اداروں میں سے ایک اوپن اے آئی مبینہ طور پر امریکی حکومت کو کمپنی میں تقریباً 5 فیصد حصص دینے کے امکان پر غور کر رہی ہے، جسے ماہرین ٹیکنالوجی اور سیاست کے ملاپ میں ایک غیر معمولی پیش رفت قرار دے رہے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق یہ تجویز ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب اوپن اے آئی کے چیف ایگزیکٹو سیم آلٹمین امریکی پالیسی سازوں کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے اور مصنوعی ذہانت کے شعبے پر بڑھتے ہوئے سیاسی دباؤ کو کم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
فنانشل ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق اس مجوزہ منصوبے کے تحت کمپنی یہ دلیل دے رہی ہے کہ اگر حکومت کو براہ راست مالی حصہ دیا جائے تو مصنوعی ذہانت سے حاصل ہونے والے بڑے منافع کو عوامی سطح پر بھی شیئر کیا جا سکتا ہے۔ تاہم ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ تجویز ابھی ابتدائی مراحل میں ہے اور اس پر کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہوا۔
ماہرین کے مطابق اگر یہ منصوبہ آگے بڑھتا ہے تو یہ دنیا میں اپنی نوعیت کی ایک غیر معمولی مثال ہوگی، جہاں ایک بڑی پرائیویٹ اے آئی کمپنی براہ راست ریاستی ادارے کو حصہ دار بنا دے گی۔
ٹیک پالیسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ پیش رفت اس بات کی علامت ہے کہ مصنوعی ذہانت اب صرف ایک ٹیکنالوجی نہیں رہی بلکہ عالمی طاقتوں، حکومتوں اور کارپوریٹ دنیا کے درمیان ایک اسٹریٹجک میدان جنگ بن چکی ہے۔
اسی دوران سوال یہ بھی اٹھ رہا ہے کہ کیا اس طرح کے اقدامات مستقبل میں اے آئی انڈسٹری کی آزادی، مسابقت اور ریگولیشن کے توازن کو بدل دیں گے



