چین–امریکہ اے آئی جنگ شدت اختیار کر گئی: علی بابا نے اینتھروپک کا کوڈنگ ٹول اندرونی طور پر بند کر دیا
چین–امریکہ اے آئی جنگ شدت اختیار کر گئی: علی بابا نے اینتھروپک کا کوڈنگ ٹول اندرونی طور پر بند کر دیا
بیجنگ (ٹیک ڈیسک) — مصنوعی ذہانت کے میدان میں عالمی برتری کی دوڑ میں ایک نیا تنازع سامنے آیا ہے، جہاں چینی ٹیک کمپنی علی بابا گروپ نے اپنے ملازمین کو امریکی اے آئی کمپنی اینتھروپک کے کوڈنگ ٹول کلاڈ کوڈ کے استعمال سے روک دیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق یہ پابندی اس وقت سامنے آئی جب کلاڈ کوڈ کی کچھ خصوصیات پر سوالات اٹھے، جن میں مبینہ طور پر ایسے فیچرز شامل ہیں جو چین سے منسلک صارفین کی شناخت میں مدد دے سکتے ہیں۔ اس انکشاف نے دونوں کمپنیوں کے درمیان پہلے سے موجود کشیدگی کو مزید بڑھا دیا ہے۔
یہ تنازع اس الزام کے بعد شدت اختیار کر گیا جب اینتھروپک نے علی بابا پر الزام عائد کیا کہ اس نے مبینہ طور پر اس کے اے آئی ماڈل کلاڈ کی صلاحیتوں کو غیر قانونی طور پر حاصل کرنے کی کوشش کی۔ دونوں کمپنیوں نے ایک دوسرے پر سنگین تکنیکی اور اخلاقی الزامات عائد کیے ہیں۔
ماہرین کے مطابق یہ صرف دو کمپنیوں کا تنازع نہیں بلکہ دنیا کی دو بڑی معیشتوں — امریکہ اور چین — کے درمیان مصنوعی ذہانت کی قیادت حاصل کرنے کی وسیع تر جنگ کا حصہ ہے، جہاں ڈیٹا، ماڈلز اور کوڈنگ ٹولز اب اسٹریٹجک ہتھیار بن چکے ہیں۔
ٹیک تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ آنے والے برسوں میں اے آئی انڈسٹری میں اس نوعیت کے تنازعات مزید بڑھ سکتے ہیں، کیونکہ عالمی طاقتیں اب سافٹ ویئر اور الگورتھم کو بھی جغرافیائی سیاسی ہتھیار کے طور پر دیکھ رہی ہیں


