اور جب افغانی ہزاروں کی تعداد میں پاکستان کی طرف دوڑ پڑے
اور جب افغانی ہزاروں کی تعداد میں پاکستان کی طرف دوڑ پڑے
سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی متعدد ویڈیوز اور دعوؤں میں کہا جا رہا ہے کہ افغانستان میں یہ خبر پھیل گئی کہ پاکستان نے مبینہ طور پر اپنی سرحد عارضی طور پر کھول دی ہے، جس کے بعد بڑی تعداد میں لوگ سرحدی علاقوں کی جانب روانہ ہو گئے۔
ان ویڈیوز میں مرد، خواتین اور بچے اپنے سامان کے ساتھ سر پر گٹھڑیاں اٹھائے اور سامان لادے ہوئے سرحدی راستوں کی طرف بھاگتے اور جمع ہوتے دکھائی دے رہے ہیں۔ بعض کلپس میں بڑے ہجوم اور غیر معمولی نقل و حرکت کے مناظر بھی دیکھے جا سکتے ہیں، تاہم ان مناظر کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہو سکی اور نہ ہی یہ واضح ہے کہ یہ ویڈیوز کس مقام اور وقت کی ہیں۔
افغانستان اور پاکستان کے درمیان سرحدی صورتِ حال پہلے ہی مختلف ادوار میں کشیدگی اور سخت نگرانی کا شکار رہی ہے، اور سرحدی آمد و رفت اکثر اوقات مخصوص قواعد و ضوابط کے تحت محدود رہتی ہے۔
سوشل میڈیا پر بعض صارفین ان مناظر کو افغانستان میں موجود سماجی اور معاشی دباؤ سے جوڑ رہے ہیں اور یہ دعویٰ بھی کیا جا رہا ہے کہ افغان شہری بہتر معاشی مواقع اور نسبتاً آزاد ماحول کی تلاش میں سرحد پار علاقوں کو ایک ممکنہ منزل کے طور پر دیکھتے ہیں
افغانستان میں انسانی حقوق، خصوصاً خواتین کی تعلیم اور سماجی سرگرمیوں سے متعلق پالیسیوں پر عالمی سطح پر پہلے بھی مختلف خدشات اور تنقید سامنے آتی رہی ہے، مگر موجودہ ویڈیوز میں دکھائے گئے مناظر کو ان پالیسیوں سے براہِ راست جوڑ کر دیکھا جارہا ہے
اس واقعے سے متعلق سرکاری سطح پر بھی تاحال کوئی واضح بیان سامنے نہیں آیا، جبکہ سوشل میڈیا پر بحث اور قیاس آرائیاں جاری ہیں۔ صورتحال کے بارے میں حتمی رائے کے لیے آزاد ذرائع سے تصدیق کا انتظار کیا جا رہا ہے


