قائد آباد میں تین سالہ بچی کی بوری بند لاش اور ریاست کی بے حسی ، پولیس تفتیش پر عدالت میں سنگین الزامات
قائد آباد میں تین سالہ بچی کی بوری بند لاش اور ریاست کی بے حسی ، پولیس تفتیش پر عدالت میں سنگین الزامات
کراچی : قائد آباد کے علاقے سے تین سالہ بچی کی بوری بند تشدد زدہ لاش برآمد ہونے کے مقدمے کی سماعت جوڈیشل مجسٹریٹ ملیر کی عدالت میں ہوئی جہاں پولیس کی تفتیش اور مقدمے کی پیش رفت پر اہم سوالات اٹھائے گئے۔ سماعت کے دوران انکشاف ہوا کہ پولیس شوکاز نوٹس جاری ہونے کے بعد مقدمے کی ایف آئی آر کی کاپی عدالت میں جمع کرا سکی۔ پولیس نے کیس کی پیش رفت رپورٹ جمع کرانے کے لیے مہلت طلب کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ مقدمے کے اندراج کے 14 روز مکمل ہونے کے بعد عبوری چالان عدالت میں پیش کیا جائے گا – دوسری جانب مدعی مقدمے کے وکیل اعجاز بنگش نے عدالت میں پولیس کی تفتیش پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے مؤقف اپنایا کہ تفتیش درست سمت میں آگے نہیں بڑھ رہی بلکہ مدعی مقدمہ کو مسلسل ہراساں کیا جا رہا ہے۔ وکیل کے مطابق پولیس اب تک 13 افراد کے ڈی این اے نمونے حاصل کر چکی ہے جن میں سے 12 افراد مدعی مقدمہ کے اہل خانہ ہیں ، جبکہ مدعی کی جانب سے نشاندہی کیے گئے مشکوک افراد سے نہ تو مؤثر تفتیش کی جا رہی ہے اور نہ ہی ان کے ڈی این اے نمونے لیے جا رہے ہیں۔ اعجاز بنگش نے مزید الزام عائد کیا کہ قائد آباد انویسٹیگیشن پولیس مدعی مقدمہ کو دھمکیاں دے رہی ہے اور اس پر اپنا بیان تبدیل کرنے کے لیے دباؤ بھی ڈالا جا رہا ہے۔ واضح رہے کہ 23 جون کو قائد آباد کے علاقے سے تین سالہ بچی کی تشدد زدہ بوری بند لاش برآمد ہوئی تھی جس کے بعد مقدمہ درج کرکے تحقیقات کا آغاز کیا گیا تھا۔ تاہم کیس کی تفتیش اور پیش رفت کے حوالے سے اب متعدد سوالات سامنے آ رہے ہیں، جن پر عدالت نے بھی پولیس سے جواب طلب کیا ہے۔


