Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

ہومبریکنگ نیوزاسحاق ڈار کے نواسے رضا ڈار اور خواتین کا اصل جھگڑا، مقدمہ...

ٹرینڈنگ

اسحاق ڈار کے نواسے رضا ڈار اور خواتین کا اصل جھگڑا، مقدمہ کس کے ایما پر درج ہوا ، کرپٹو حکومت ریاست کی اندرونی کہانی

اسحاق ڈار کے نواسے رضا ڈار اور خواتین کا اصل جھگڑا، مقدمہ کس کے ایما پر درج ہوا ، کرپٹو حکومت ریاست کی اندرونی کہانی

لاہور : پاکستان کے ڈپٹی پرائم منسٹر اسحاق ڈار جنکی حکمران پارٹی کے سربراہ میاں نواز شریف سے قریبی عزیز داری ہے انکے نواسے کے غیر ملکی خواتین کے ساتھ ناروا سلوک کی خبر پوری دنیا میں جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی ہے۔ ہالینڈ اور وینزویلا سے تعلق رکھنے والی دو خواتین نے رضا ڈار اور انکے ساتھیوں پر سنگاپور سے پاکستان بلوا کر اغوا، تاوان اور اجتماعی زیادتی کے الزامات لگائے ہیں۔ ذرائع کے مطابق متاثرہ خواتین کی ایف آئی آر پولیس درج کرنے میں تاخیر کر رہی تھی اور اس واردات کے ماسٹر مائنڈ کو بچانے کی کوشش کر رہی تھی جسپر قومی سلامتی کے ادارے متحرک ہوئے اور پھر مقدمہ درج کیا گیا اور مرکزی ملزم کو حراست میں لے لیا گیا۔ ذرائع کے مطابق متاثرہ خواتین کے مرکزی ملزم رضا ڈار کے ساتھ بیرون ملک کاروباری تعلقات تھے اور ان غیرملکی خواتین نے رضا ڈار کی خطیر رقم کرپٹو کرنسی میں خرد برد یا ضائع کر دی تھی جسکو ریکور کرنے کیلئے انکو پاکستانی ویزے لگوا کر میٹنگ کیلئے لاہور بلوایا گیا اور پھر ڈیفنس سوسائٹی کے ایک بنگلے میں قید کر دیا گیا۔ رضا ڈار نے مغوی خواتین کے سامنے کسی ممکنہ پریشانی سے بچنے کیلئے خود کو بھی مظلوم ظاہر کیا اور ان خواتین کو ڈیڑھ ملین ڈالر کی رقم اغوا کرنے والوں کو ادا کرنے کا کہا۔ پولیس ایف آئی آر کیمطابق خواتین نے دوسرے ملزموں کیساتھ رضا ڈار کو جنسی تشدد اور آبرو ریزی کا ملزم نہیں ٹھہرایا تاہم اس تمام واقعے کا ماسٹر مائنڈ قرار دیا۔ متاثرہ خواتین بیرون ملک روانہ ہو چکی ہیں اور یقیناً پاکستان کی طاقتور اور امیر ترین فیملی انکے ساتھ معاملات طے کر رہی ہو گی۔ دوسری طرف مسلم لیگ کے سربراہ میاں نواز شریف انکے سمدھی ڈپٹی پرائم منسٹر اسحاق ڈار ، وزیر اعظم شہباز شریف اور وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف بھی اس واقعے اور اسکے بعد کی ڈویلپمنٹ سے شدید پریشانی اور دباؤ میں آ چکے ہیں، ادھر اسلام آباد کے اہم ترین ذرائع نے دعویٰ کیا ہے رضا ڈار کے ایما پر خواتین کا پاکستان آنے کے لیے ویزہ اسحاق ڈار کی ہدایت پر جاری کیا ، اور اب یہ معاملہ فارن آفیس سے وزیراعظم آفیس تک ایک انتہائ سنگین صورت اختیار کرچکا ہے ، دیکھنا یہ ہے کہ پاکستان کے اندرونی سیاسی منظرنامے پر اسکے کیا اثرات سامنے آتے ہیں۔ ڈپٹی پرائم منسٹر اسحاق ڈار کے صاحبزادے علی ڈار جو میاں نواز شریف کے داماد اور وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی بہن کے شوہر ہیں، انکو حال ہی میں دبئی سے واپس بلوا کر پنجاب حکومت میں ڈیجٹل معاملات کے لیے قائم کیے گئے ادارے کا سربراہ مقرر کیا گیا ہے ، انہی ذرائع کا کہنا ہے اس وقت پاکستان میں حکمراں اشرافیہ امریکہ سے سنگاپور تک کرپٹو کرنسی کے کاروبار میں بڑے پیمانے پر ملوث ہے اور ملک چلانے کے ذمہ دار افراد کی اکثریت کرپٹ کھیل کا بڑا حصہ ہی نہیں ، ملکی خارجہ و داخلہ پالیسی میں بھی کرپٹو مفادات کو انتہائ اہمیت حاصل ہے پر فائز کیا گیا ہے۔ علی ڈار مبینہ طور پر ماضی میں دبئی میں ریئل اسٹیٹ اور کرپٹو کرنسی کے کاربار سے منسلک رہے ہیں، اور بتایا جاتا ہے کہ بعض اہم شخصیات کی بھاری رقوم کرپٹو اور فارکس ٹریڈنگ میں ضائع کر چکے ہیں۔ فاریکس ڈیلرز کے مطابق مشرق وسطیٰ میں حالات خراب ہونے کے بعد سنگاپور ٹریڈنگ اور بلیک منی پارک کرنے کا بڑا مرکز بن چکا ہے، جہاں سے یہ دو خواتین رضا ڈار کے ایما پر لاہور آئیں ۔

مزید پڑھیں