Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

ہومامریکہمصنوعی ذہانت کا تاریک پہلو بے نقاب: ڈیٹا سینٹرز زمین کے وسائل...

ٹرینڈنگ

مصنوعی ذہانت کا تاریک پہلو بے نقاب: ڈیٹا سینٹرز زمین کے وسائل پر بڑھتا ہوا دباؤ، ماہرین نے خطرے کی گھنٹی بجا دی

مصنوعی ذہانت کا تاریک پہلو بے نقاب: ڈیٹا سینٹرز زمین کے وسائل پر بڑھتا ہوا دباؤ، ماہرین نے خطرے کی گھنٹی بجا دی

نیویارک: مصنوعی ذہانت کی برق رفتار ترقی کے ساتھ دنیا بھر میں قائم ہونے والے دیوقامت ڈیٹا سینٹرز ماحولیات کے لیے ایک نئے چیلنج کے طور پر سامنے آ رہے ہیں۔ معروف محقق ساشا لوچیونی نے خبردار کیا ہے کہ اگرچہ مصنوعی ذہانت کے فوائد عالمی سطح پر پہنچتے ہیں، لیکن ان مراکز کے منفی اثرات مقامی آبادی، پانی کے ذخائر، بجلی کے نظام اور ماحول پر براہِ راست مرتب ہوتے ہیں۔

ان کے مطابق ڈیٹا سینٹرز میں نصب ہزاروں سرورز کو چلانے کے لیے بے پناہ بجلی اور پانی درکار ہوتا ہے، جس سے کاربن کے اخراج اور قدرتی وسائل پر دباؤ میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ تاہم انہوں نے اس تاثر کو بھی مسترد کیا کہ ڈیٹا سینٹرز خود ہی مسئلے کی جڑ ہیں، اور کہا کہ بہتر منصوبہ بندی، صاف توانائی کے استعمال، پانی کی بچت اور ماحول دوست تعمیراتی طریقوں کے ذریعے انہیں زیادہ پائیدار بنایا جا سکتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ مصنوعی ذہانت کی صنعت کی تیز رفتار توسیع کے ساتھ حکومتوں اور ٹیکنالوجی کمپنیوں کو ایسی پالیسیاں اختیار کرنا ہوں گی جو جدید ٹیکنالوجی کی ترقی اور موسمیاتی اہداف کے درمیان توازن برقرار رکھ سکیں

مزید پڑھیں