Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

ہومبین الاقوامی خبریںہلدی گھاٹی کی جنگ کا ازسرِنو سوال: اکبر کی فتح یا مہارانا...

ٹرینڈنگ

ہلدی گھاٹی کی جنگ کا ازسرِنو سوال: اکبر کی فتح یا مہارانا پرتاپ کی مزاحمت؟ اور ایران۔امریکہ جنگ کے دعوؤں سے جڑا نیا فکری تقابل

ہلدی گھاٹی کی جنگ کا ازسرِنو سوال: اکبر کی فتح یا مہارانا پرتاپ کی مزاحمت؟ اور ایران۔امریکہ جنگ کے دعوؤں سے جڑا نیا فکری تقابل

تاریخ کے ایک پرانے مگر مسلسل زیرِ بحث معرکے، ہلدی گھاٹی کی جنگ، کو ایک بار پھر نئے زاویے سے دیکھا جا رہا ہے۔ یہ وہی سوال ہے جو صدیوں سے مورخین اور مؤرخانہ تعبیرات کے درمیان معلق ہے کہ کیا واقعی اس جنگ میں مکمل فتح مغل شہنشاہ اکبر کے حصے میں آئی، یا پھر میواڑ کے حکمران مہارانا پرتاپ نے مزاحمت کے ذریعے اخلاقی اور عملی سطح پر اپنی برتری قائم رکھی۔

روایتی مؤرخین کے مطابق میدانِ جنگ میں عددی برتری، عسکری نظم اور ریاستی طاقت کے باعث مغل سلطنت کو برتری حاصل رہی، مگر دوسری طرف ایک بڑا مؤرخانہ مکتبِ فکر یہ دلیل دیتا ہے کہ مہارانا پرتاپ نے شکست کے باوجود اپنی ریاست، اپنی پہاڑی مزاحمت اور مسلسل جنگی حکمتِ عملی کے ذریعے وہ سیاسی اثر برقرار رکھا جسے مکمل فتح کے خانے میں آسانی سے نہیں رکھا جا سکتا۔

اسی تاریخی بحث کو آج کے عالمی سیاسی تناظر سے جوڑنے کی کوشش کی جا رہی ہے، جہاں حالیہ برسوں میں ایران اور امریکہ کے درمیان تنازعات اور جنگ بندی کے دعوؤں پر بھی یہ سوال اٹھتا رہا ہے کہ “اصل فتح کس کی ہوئی”۔ کیا جنگی میدان کی وقتی برتری ہی فیصلہ کن ہوتی ہے یا طویل المدتی سیاسی اثر، بیانیہ اور استقامت بھی اسی درجے کی اہمیت رکھتے ہیں۔

ماہرینِ تاریخ کے مطابق ہلدی گھاٹی کا واقعہ محض ایک فوجی معرکہ نہیں بلکہ اقتدار، بیانیے اور مزاحمت کی علامت بن چکا ہے، جہاں ایک طرف ریاستی طاقت کی نمائندگی تھی اور دوسری طرف محدود وسائل کے باوجود مسلسل مزاحمت کی ایک ایسی روایت جس نے بعد کے زمانوں میں آزادی اور خودمختاری کے تصورات کو بھی متاثر کیا۔

یوں یہ بحث آج بھی اسی سوال پر آ کر رک جاتی ہے کہ تاریخ میں فتح صرف توپ اور تلوار سے طے ہوتی ہے یا پھر وقت کے ساتھ قائم رہنے والا بیانیہ بھی ایک خاموش مگر فیصلہ کن “فتح” کی شکل اختیار کر لیتا ہے

مزید پڑھیں