ایران میں اعلیٰ فوجی جنرل کی پس منظر سے واپسی اور تہران میں سپریم لیڈر کے طویل جنازے کی تیاریاں: طاقت، جانشینی اور جنگ کے سائے میں نیا بحران
ایران میں اعلیٰ فوجی جنرل کی پس منظر سے واپسی اور تہران میں سپریم لیڈر کے طویل جنازے کی تیاریاں: طاقت، جانشینی اور جنگ کے سائے میں نیا بحران
میڈیا کی رپورٹ کے مطابق ایران کے ایک بااثر فوجی کمانڈر، جو پاسدارانِ انقلاب کی اہم قیادت میں شمار ہوتے ہیں، اچانک کئی روز کی غیر موجودگی کے بعد دوبارہ منظرِ عام پر آ گئے ہیں، جبکہ تہران میں ملک کے اعلیٰ مذہبی و سیاسی رہنما آیت اللہ علی خامنہ ای کے مبینہ طویل جنازے کی تقریبات کی تیاریاں جاری ہیں۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جنرل احمد واحدی، جو ایران کی پاسدارانِ انقلاب میں ایک اہم اور سخت گیر پالیسی ساز کردار کے طور پر جانے جاتے ہیں، کو سرکاری میڈیا کی تصاویر میں ایک اجلاس میں شرکت کرتے دیکھا گیا ہے، جہاں وہ مبینہ طور پر آیت اللہ علی خامنہ ای کی تدفین اور آخری رسومات سے متعلق انتظامات میں شریک تھے ، جنرل احمد واحدی کو تصاویر میں بعد ازاں ایک ایسی تقریب میں بھی دکھایا گیا جہاں وہ خامنہ ای کے تابوت کے قریب موجود تھے، جبکہ تہران میں محدود پیمانے پر ایک ابتدائی مذہبی اجتماع بھی منعقد کیا گیا۔ یہ تقریب مبینہ طور پر دارالحکومت کے ایک مرکزی علاقے میں سابق رہائش گاہ کے قریب ہوئی۔
رپورٹ کے مطابق ایران کے اندر طاقت کے نئے توازن پر بھی بحث تیز ہو گئی ہے، کیونکہ بعض ماہرین کے مطابق یہی حلقہ موجودہ جنگی صورتحال اور امریکہ کے ساتھ ممکنہ مذاکرات میں سخت مؤقف تشکیل دینے میں کلیدی کردار ادا کر رہا ہے۔
اسی دوران یہ دعوے بھی سامنے آئے ہیں کہ خامنہ ای کے جانشین اور موجودہ سپریم لیڈر آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای، جو مبینہ طور پر ایک خفیہ مقام پر موجود ہیں، اندرونی قیادت کے اہم فیصلوں میں محدود مگر اثر انگیز کردار ادا کر رہے ہیں ، علی خامنہ ای اور ان کے گرد پیدا ہونے والی اس غیر یقینی صورتحال نے تہران کی سیاسی فضا کو مزید حساس بنا دیا ہے، جبکہ قیادت کے تسلسل اور ریاستی استحکام سے متعلق سوالات شدت اختیار کرتے جا رہے ہیں۔
اسی طرح مجتبی خامنہ ای کے حوالے سے بھی رپورٹس میں یہ عندیہ دیا گیا ہے کہ وہ پسِ پردہ قیادت کے بعض اہم رابطوں میں شامل ہو سکتے ہیں، اگرچہ اس کی آزادانہ تصدیق ممکن نہیں ہو سکی۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اگر یہ صورتحال طویل ہوتی ہے تو ایران کی داخلی طاقت کی ساخت، خطے میں اس کی عسکری حکمتِ عملی اور امریکہ کے ساتھ کشیدگی پر اس کے گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں، خصوصاً ایسے وقت میں جب خطہ پہلے ہی جنگ اور سفارتی دباؤ کے شدید مرحلے سے گزر رہا ہے


