Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

ہومامریکہٹرمپ انتظامیہ کو بڑا عدالتی دھچکا: تارکینِ وطن کو نوّے دن سے...

ٹرینڈنگ

ٹرمپ انتظامیہ کو بڑا عدالتی دھچکا: تارکینِ وطن کو نوّے دن سے زیادہ بغیر سماعت حراست میں رکھنا غیر قانونی قرار

ٹرمپ انتظامیہ کو بڑا عدالتی دھچکا: تارکینِ وطن کو نوّے دن سے زیادہ بغیر سماعت حراست میں رکھنا غیر قانونی قرار

رائٹرز کے مطابق امریکہ کی ایک وفاقی اپیل عدالت نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کو بڑا قانونی دھچکا دیتے ہوئے فیصلہ دیا ہے کہ حکومت زیرِ التوا ملک بدری کے مقدمات کا سامنا کرنے والے تارکینِ وطن کو نوّے دن سے زیادہ بغیر عدالتی سماعت حراست میں نہیں رکھ سکتی۔

دو کے مقابلے میں ایک جج کی اکثریت سے سنائے گئے فیصلے میں عدالت نے قرار دیا کہ اگر کسی غیر ملکی کو نوّے دن سے زیادہ حراست میں رکھا جانا ہو تو حکومت پر لازم ہے کہ اسے ضمانت پر رہائی کی درخواست کے لیے باقاعدہ سماعت کا موقع فراہم کرے۔ عدالت کے مطابق ایسی سماعت کے بغیر غیر معینہ مدت تک حراست آئینی تقاضوں سے مطابقت نہیں رکھتی۔

یہ فیصلہ خصوصاً امریکی ریاستوں ٹیکساس اور لوزیانا میں زیرِ حراست ہزاروں تارکینِ وطن کو متاثر کر سکتا ہے، جہاں امیگریشن حراستی مراکز کی بڑی تعداد موجود ہے۔

رپورٹ کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ نے گزشتہ ہفتے ہی امریکی سپریم کورٹ سے درخواست کی تھی کہ اس قانونی تنازع پر حتمی فیصلہ دیا جائے، کیونکہ مختلف وفاقی عدالتوں کے فیصلوں میں اختلاف پایا جاتا ہے۔

قانونی ماہرین کے مطابق اگر یہ فیصلہ برقرار رہتا ہے تو حکومت کو نوّے دن سے زیادہ حراست میں رکھے گئے ہزاروں افراد کے لیے ضمانت کی سماعتیں کرانا پڑیں گی، جس سے امریکہ کی امیگریشن پالیسی اور ملک بدری کے طریقۂ کار پر نمایاں اثرات مرتب ہو سکتے ہیں

مزید پڑھیں