Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

ہومبھارتبھارت کی آبی پالیسی پر تنقید، سندھ طاس معاہدے کے تناظر میں...

ٹرینڈنگ

بھارت کی آبی پالیسی پر تنقید، سندھ طاس معاہدے کے تناظر میں نئی بحث

بھارت کی آبی پالیسی پر تنقید، سندھ طاس معاہدے کے تناظر میں نئی بحث

اسلام آباد: جنوبی ایشیا میں پانی کے وسائل کے گرد بڑھتی ہوئی کشیدگی ایک بار پھر عالمی توجہ کا مرکز بن گئی ہے، جہاں ماہرین اور مبصرین کے مطابق دریائی وسائل پر اختلافات خطے کے استحکام کے لیے سنگین چیلنج بن رہے ہیں۔

ایک حالیہ اداریے میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ بھارت کی جانب سے دریائی پانی کے استعمال سے متعلق بعض یکطرفہ اقدامات سندھ طاس معاہدے کے قانونی اور اخلاقی تقاضوں پر سوالات اٹھاتے ہیں۔

مضمون میں کہا گیا ہے کہ دریائے سندھ کے طاس کے پانی پر اختلافات نہ صرف قانونی معاہدوں کی روح سے متصادم ہیں بلکہ اس سے زرعی معیشت اور بالخصوص زیریں علاقوں کی آبی ضروریات متاثر ہونے کا خدشہ بھی پیدا ہوتا ہے۔

ماہرینِ قانون کے مطابق 1960 کے سندھ طاس معاہدے کو بین الاقوامی آبی سفارت کاری میں ایک اہم سنگ میل سمجھا جاتا ہے، جس کے تحت دونوں ممالک کے درمیان دریاؤں کے استعمال کے اصول طے کیے گئے تھے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال میں پانی جیسے بنیادی وسیلے کو سیاسی کشمکش کا حصہ بنانا خطے میں پہلے سے موجود تناؤ کو مزید بڑھا سکتا ہے، اس لیے اس معاملے کے حل کے لیے سفارتی اور قانونی راستوں کو ترجیح دینا ضروری ہے۔

اداریے میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ آبی تنازعات کا پائیدار حل صرف باہمی تعاون اور بین الاقوامی قوانین کی پاسداری کے ذریعے ہی ممکن ہے، ورنہ اس کے اثرات خطے کی معیشت اور امن دونوں پر پڑ سکتے ہیں

مزید پڑھیں