کراچی اسپتال میں ایچ آئی وی پھیلاؤ کی مبینہ رپورٹ، سندھ ہائیکورٹ نے تفصیلی جواب طلب کر لیا
کراچی اسپتال میں ایچ آئی وی پھیلاؤ کی مبینہ رپورٹ، سندھ ہائیکورٹ نے تفصیلی جواب طلب کر لیا
کراچی: سندھ ہائی کورٹ نے شہر کے ایک سرکاری اسپتال میں مبینہ طور پر ایچ آئی وی کے پھیلاؤ سے متعلق خبروں پر سندھ کے سیکریٹری صحت اور پولیس چیف سے تفصیلی رپورٹ طلب کر لی ہے۔
یہ کارروائی ایک شہری کی جانب سے دائر کردہ درخواست پر کی گئی، جس میں الزام عائد کیا گیا کہ اسپتال میں آلودہ سرنجوں کے دوبارہ استعمال اور طبی غفلت کے باعث متعدد بچوں میں ایچ آئی وی انفیکشن سامنے آیا ہے۔
عدالتی دستاویزات کے مطابق یہ معاملہ کراچی کے کولسم بائی والیکا سیسی اسپتال (SITE ایریا) سے متعلق بتایا گیا ہے، جہاں مبینہ طور پر تقریباً 84 سے زائد اور بعض رپورٹس کے مطابق 200 سے زیادہ بچے متاثر ہوئے، جبکہ چند اموات کی بھی اطلاعات ہیں۔
کیس کی سماعت جسٹس عدنان الکریم میمن اور جسٹس عدنان اقبال چوہدری پر مشتمل دو رکنی بینچ نے کی، اور عدالت نے اس معاملے کو صحت عامہ کے سنگین مسئلے کے طور پر دیکھتے ہوئے متعلقہ حکام سے جامع رپورٹ طلب کر لی۔
عدالت نے اپنے حکم میں قرار دیا کہ مبینہ طور پر یہ صورتحال طبی غفلت اور انفیکشن کنٹرول کے بنیادی اصولوں کی خلاف ورزی کی نشاندہی کرتی ہے، جس کی مکمل تحقیقات ضروری ہیں


