اسپین میں سولر توانائی کی زائد پیداوار کے بعد سرمایہ کاروں میں بے چینی
اسپین میں سولر توانائی کی زائد پیداوار کے بعد سرمایہ کاروں میں بے چینی
میڈرڈ: اسپین میں شمسی توانائی (سولر انرجی) کے تیزی سے پھیلاؤ کے بعد توانائی کے شعبے میں نئی بحث شروع ہو گئی ہے، کیونکہ بعض سرمایہ کار اب اس مارکیٹ سے نکلنے پر غور کر رہے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق اسپین نے گزشتہ چند برسوں میں قابلِ تجدید توانائی خصوصاً سولر منصوبوں میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کی، جس کے نتیجے میں بجلی کی پیداوار کئی اوقات طلب سے زیادہ ہو گئی ہے۔
توانائی ماہرین کے مطابق جب پیداوار ضرورت سے زیادہ بڑھ جائے تو بجلی کی قیمتیں کم ہو جاتی ہیں، جس سے نئے اور پرانے منصوبوں کی منافع بخش حیثیت متاثر ہوتی ہے۔ اسی صورتحال کے باعث کچھ سرمایہ کار اپنے حصص فروخت کرنے یا نئے منصوبوں میں سرمایہ کاری روکنے پر غور کر رہے ہیں۔
مارکیٹ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اسپین کا شمسی توانائی کا انفراسٹرکچر تیزی سے عالمی معیار تک پہنچ چکا ہے، لیکن “اوور سپلائی” کے مسئلے نے شارٹ ٹرم منافع کو دباؤ میں ڈال دیا ہے۔
اس کے باوجود ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ طویل مدت میں قابلِ تجدید توانائی کی طرف رجحان برقرار رہے گا، کیونکہ یورپ مجموعی طور پر فوسل فیول سے ہٹ کر صاف توانائی کی طرف منتقل ہو رہا ہے


