امریکا-ایران معاہدے کے بعد سعودی عرب کی ہرمز آبنائے سے تیل کی ترسیل میں نمایاں اضافہ
امریکا-ایران معاہدے کے بعد سعودی عرب کی ہرمز آبنائے سے تیل کی ترسیل میں نمایاں اضافہ
ریاض: امریکی ایران جنگ کے خاتمے کے معاہدے کے بعد سعودی عرب نے آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل کی ترسیل میں نمایاں اضافہ کر دیا ہے، جو عالمی توانائی منڈی میں بدلتی صورتحال کی عکاسی کرتا ہے۔
انرجی ٹریڈ انٹیلیجنس فرم “کلپر” کے اعداد و شمار کے مطابق سعودی عرب نے 17 جون کے بعد سے اب تک تقریباً 34 ملین بیرل تیل آبنائے ہرمز کے راستے برآمد کیا ہے۔ یہی وہ تاریخ ہے جب رپورٹ کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان جنگ کے خاتمے کا معاہدہ ہوا تھا۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ گزشتہ دو ہفتوں کے دوران سعودی برآمدات اس سے پہلے کے عرصے کے مقابلے میں دو گنا سے زیادہ ہیں، جب 9 مارچ سے 17 جون کے درمیان صرف 15 ملین بیرل تیل اس راستے سے منتقل کیا گیا تھا۔
توانائی ماہرین کے مطابق مارچ میں بعض ایرانی حملوں اور بحری ٹریفک میں کمی کے باعث سعودی عرب نے اپنے خلیجی برآمدی ٹرمینلز راس تنورہ اور جُعیمہ سے ترسیل عارضی طور پر محدود کر دی تھی، تاہم اب صورتحال معمول پر آنے کے بعد برآمدات دوبارہ تیزی سے بحال ہو گئی ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز عالمی تیل کی ترسیل کا سب سے حساس اور اہم راستہ ہے، اور یہاں کسی بھی قسم کی کشیدگی عالمی منڈی میں قیمتوں پر فوری اثر ڈال سکتی ہے


