انڈوں کی قیمتوں کا بڑا کھیل، مبینہ گٹھ جوڑ نے امریکی عوام کی جیبیں خالی کر دیں
انڈوں کی قیمتوں کا بڑا کھیل، مبینہ گٹھ جوڑ نے امریکی عوام کی جیبیں خالی کر دیں
واشنگٹن: امریکہ میں انڈوں کی ریکارڈ مہنگائی کے پیچھے صرف پرندوں میں پھیلنے والی وبا ہی نہیں بلکہ بڑے انڈہ پیدا کرنے والے اداروں پر قیمتیں مصنوعی طور پر بلند رکھنے کے الزامات بھی توجہ کا مرکز بن گئے ہیں۔
متعدد مقدمات میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ انڈوں کی بڑی کمپنیاں پیداوار محدود رکھنے اور رسد کو قابو میں رکھ کر قیمتیں غیرمعمولی حد تک بڑھانے کے لیے آپس میں گٹھ جوڑ کرتی رہیں، جس کے نتیجے میں عام امریکی صارفین کو گروسری کی خریداری پر زیادہ رقم ادا کرنا پڑی۔
کمپنیاں ان الزامات کی تردید کرتی ہیں اور مؤقف اختیار کرتی ہیں کہ قیمتوں میں اضافے کی اصل وجہ پرندوں میں پھیلنے والی وبا، بڑھتی پیداواری لاگت، خوراک اور ایندھن کی مہنگائی اور سپلائی چین کے مسائل تھے۔
تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ وبا کے باوجود بعض کمپنیوں کے منافع میں غیرمعمولی اضافہ اس شبہے کو تقویت دیتا ہے کہ محدود رسد کے ذریعے قیمتوں کو مصنوعی طور پر بلند رکھا گیا۔
یہ تنازع اس وقت ایک بار پھر نمایاں ہو گیا ہے جب امریکی عوام خوراک کی مسلسل بڑھتی قیمتوں سے پریشان ہیں اور انڈوں کی مہنگائی کو روزمرہ زندگی پر پڑنے والے سب سے نمایاں معاشی دباؤ میں شمار کیا جا رہا ہے


