مصنوعی ذہانت کا دور، کیا روایتی کمپنیاں باقی رہ سکیں گی؟ دنیا بھر میں بڑی کمپنیوں کے سربراہ اور انتظامی بورڈ مصنوعی ذہانت کی
دنیا بھر میں بڑی کمپنیوں کے سربراہ اور انتظامی بورڈ مصنوعی ذہانت کی حکمتِ عملی بنانے میں مصروف ہیں، سرمایہ کار اسی شعبے میں سرمایہ لگانے والی کمپنیوں کو ترجیح دے رہے ہیں، جبکہ مشاورتی ادارے بھی اس تبدیلی کو کاروباری انقلاب قرار دے رہے ہیں۔
تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ اصل چیلنج صرف مصنوعی ذہانت کو اختیار کرنا نہیں، بلکہ اس حقیقت کو سمجھنا ہے کہ یہ ٹیکنالوجی کمپنیوں کے کام کرنے کے طریقے ہی نہیں بلکہ ان کی بنیادی ساخت اور وجود کو بھی بدل رہی ہے۔
رائے یہ ہے کہ صنعتی دور کے لیے بنائے گئے روایتی کاروباری ادارے اگر اپنی تنظیم، فیصلہ سازی، قیادت اور کاروباری ماڈل کو نئے حالات کے مطابق ڈھالنے میں ناکام رہے تو محض مصنوعی ذہانت کے استعمال سے وہ مستقبل کی دوڑ میں کامیاب نہیں ہو سکیں گے۔
ماہرین کے مطابق آنے والے برسوں میں کامیابی ان اداروں کے حصے میں آئے گی جو مصنوعی ذہانت کو صرف ایک نئی ٹیکنالوجی نہیں بلکہ کاروبار کی مکمل ازسرِنو تشکیل کا ذریعہ سمجھ کر خود کو نئے ذہین دور کے مطابق ڈھالیں گے


