پاکستان میں ٹیکسلا کے آثار قدیمہ پر حملہ ، یونیسکو کا احتجاج و انتباہ
پاکستان میں ٹیکسلا کے آثار قدیمہ پر حملہ ، یونیسکو کا احتجاج و انتباہ
ہ
یونیسکو نے حکومتِ پاکستان سے مطالبہ کیا ہے کہ ٹیکسلا کے تاریخی مقامات پر کی گئی مبینہ “تعمیر نو” کو واپس لیا جائے، ورنہ انہیں عالمی ورثہ کی “خطرے کی فہرست” میں شامل کیا جا سکتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق موہڑہ مرادو اور سِرکپ کے آثارِ قدیمہ پر کیے گئے تعمیراتی کاموں نے ان مقامات کی تاریخی اصل حیثیت اور خالصت کو متاثر کیا ہے، جس پر عالمی ادارے نے شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔
ذرائع کے مطابق یونیسکو نے واضح کیا ہے کہ اگر ان مداخلتوں کو واپس نہ لیا گیا تو ٹیکسلا کے عالمی ورثہ کے درجہ کو بھی خطرہ لاحق ہو سکتا ہے، اور اسے عالمی فہرست سے خارج کرنے تک بات جا سکتی ہے۔
دوسری جانب پنجاب کے محکمہ آثارِ قدیمہ نے ان اقدامات کا دفاع کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا ہے کہ یہ اقدامات قدیم باقیات کے تحفظ کے لیے ضروری “کنزرویشن” کے تحت کیے گئے ہیں، تاہم عالمی ادارہ اس سے اتفاق نہیں کر رہا۔
ماہرین کے مطابق یہ تنازع پاکستان کے ثقافتی ورثے کے تحفظ اور بین الاقوامی معیار کے درمیان ایک اہم کشیدگی کو ظاہر کرتا ہے


