سعودی عرب کراچی میں 140 ایکڑ زمین پر بڑا میری ٹائم بزنس ڈسٹرکٹ بنانے کا منصوبہ فائنل ، اصل مقصد کیا ہے؟
سعودی عرب کراچی میں 140 ایکڑ زمین پر بڑا میری ٹائم بزنس ڈسٹرکٹ بنانے کا منصوبہ فائنل ، اصل مقصد کیا ہے؟
کراچی: پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان ایک اہم اقتصادی پیش رفت کے تحت کراچی پورٹ ٹرسٹ (کے پی ٹی) کی 140 ایکڑ قیمتی زمین پر ایک بڑے میری ٹائم بزنس ڈسٹرکٹ کی تعمیر کے لیے مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) اب معاہدے میں تبدیل ہوگئی ہے
ذمہ دار ذرائع کے مطابق یہ منصوبہ سعودی بزنس کونسل، جس پر سعودی عرب نو بلین ڈالر سے زائد کی رقم خرچ کرنے کا ارادہ رکھتا ہے ، سعودی عرب کے نجی سرمایہ کار گروپوں اور پاکستانی شراکت داروں کے تعاون سے تیار کیا جا رہا ہے، جس کا بنیادی مقصد کراچی کے ساحلی علاقے کو ایک جدید تجارتی، لاجسٹکس اور سرمایہ کاری حب میں تبدیل کرنا ہے۔
منصوبے کے تحت اس 140 ایکڑ علاقے میں جدید دفتری عمارتیں، تجارتی مراکز، لاجسٹکس انفراسٹرکچر اور ممکنہ طور پر صنعتی زون قائم کیا جائے گا، جو بندرگاہی سرگرمیوں کے ساتھ منسلک ہوگا۔
حکام کے مطابق یہ منصوبہ پاکستان کو خطے میں “ٹرانزٹ ٹریڈ اور میری ٹائم اکنامک ہب” بنانے کی حکمت عملی کا حصہ ہے، جس کے ذریعے نہ صرف غیر ملکی سرمایہ کاری کو راغب کیا جائے گا بلکہ روزگار کے نئے مواقع بھی پیدا ہوں گے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ سعودی عرب کی اس میں دلچسپی اس کی وسیع “لاجسٹکس اور بندرگاہی ترقی” کی حکمت عملی سے جڑی ہے، جس کے تحت وہ خطے میں تجارت کے نئے راستے اور مراکز قائم کر رہا ہے۔ کراچی کی یہ اسکیم اسی سلسلے کی ایک کڑی سمجھی جا رہی ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اگر یہ منصوبہ عملی شکل اختیار کر لیتا ہے تو یہ کراچی پورٹ کے اطراف شہری ترقی، رئیل اسٹیٹ اور تجارت میں بڑی تبدیلی لا سکتا ہے، تاہم اس کی کامیابی کا انحصار قانونی منظوریوں، شفاف معاہدوں اور انفراسٹرکچر کی بروقت تکمیل پر ہوگا


