Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

ہومبین الاقوامی خبریںواٹس ایپ میں یوزر نیم کا نیا نظام: رازداری اور سائبر سکیورٹی...

ٹرینڈنگ

واٹس ایپ میں یوزر نیم کا نیا نظام: رازداری اور سائبر سکیورٹی پر نئی بحث شروع

واٹس ایپ میں یوزر نیم کا نیا نظام: رازداری اور سائبر سکیورٹی پر نئی بحث شروع

میٹا کی ملکیت والے پیغام رسانی پلیٹ فارم واٹس ایپ نے اپنے نظام میں ایک بڑی تبدیلی کا اعلان کیا ہے، جس کے تحت صارفین کو فون نمبر کے بجائے یوزر نیم کے ذریعے رابطہ کرنے کی سہولت دی جا رہی ہے۔ اس فیصلے نے دنیا بھر میں، رازداری اور سائبر سکیورٹی کے حوالے سے نئی بحث چھیڑ دی ہے۔

اب تک واٹس ایپ پر شناخت کا بنیادی ذریعہ فون نمبر تھا، جس سے صارفین کی ذاتی معلومات نسبتاً زیادہ واضح اور بعض صورتوں میں غیر محفوظ ہو جاتی تھیں۔ نئے نظام کے تحت صارفین اپنا منفرد یوزر نیم بنا سکیں گے، جس کے ذریعے دوسرے افراد ان سے رابطہ کر سکیں گے، جبکہ فون نمبر چھپانے کا آپشن بھی مضبوط ہو جائے گا۔

ماہرین کے مطابق اس تبدیلی سے رازداری میں بہتری آ سکتی ہے کیونکہ اجنبی افراد کے لیے براہِ راست فون نمبر تک رسائی مشکل ہو جائے گی، تاہم اس کے ساتھ ہی سائبر جرائم کے نئے خدشات بھی جنم لے سکتے ہیں، جیسے جعلی یوزر نیم بنا کر فریب دہی، یا سوشل انجینئرنگ حملے۔

بھارت میں، جہاں واٹس ایپ کے صارفین کی تعداد کروڑوں میں ہے، یہ سوال اہم ہے کہ آیا عام صارفین اس نئے نظام کو اپنائیں گے یا نہیں، کیونکہ وہاں فون نمبر پر مبنی رابطہ اب بھی سب سے زیادہ قابلِ اعتماد اور عام طریقہ سمجھا جاتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ تبدیلی بظاہر رازداری کے تحفظ کی طرف ایک اہم قدم ہے، لیکن اس کے عملی اثرات کا انحصار صارفین کے رویے اور پلیٹ فارم کی سکیورٹی پالیسیوں پر ہوگا

مزید پڑھیں