Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

ہومبین الاقوامی خبریںثابت ہوگیا گنگا الُٹی بہہ سکتی ہے اور بہہ رہی ہے

ٹرینڈنگ

ثابت ہوگیا گنگا الُٹی بہہ سکتی ہے اور بہہ رہی ہے

ثابت ہوگیا گنگا الُٹی بہہ سکتی ہے اور بہہ رہی ہے

روس نے ایندھن کی شدید قلت پر قابو پانے کے لیے بھارت سے سمندری راستے کے ذریعے پیٹرول کی درآمد شروع کر دی ہے، جسے یوکرین کے ساتھ جاری تنازع کے بعد توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر حملوں کے نتیجے میں پیدا ہونے والے بحران سے نمٹنے کی کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔

ذرائع کے مطابق روس کے مختلف علاقوں میں پیٹرول کی قلت، طویل قطاروں اور ریکارڈ قیمتوں میں اضافے کی صورتحال دیکھی جا رہی ہے، جبکہ بعض علاقوں میں راشننگ بھی نافذ کی گئی ہے۔

اندرونی رپورٹس کے مطابق کم از کم 60 ہزار میٹرک ٹن پیٹرول بھارت سے روس روانہ کیا جا چکا ہے، جبکہ مزید کھیپیں بھی مختلف ٹینکرز کے ذریعے بھیجی گئی ہیں جن کی مقدار 30 سے 40 ہزار ٹن فی ٹینکر بتائی گئی ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ مجموعی طور پر روس ہر ماہ تقریباً 4 لاکھ ٹن پیٹرول مختلف ممالک سے درآمد کرنے کا منصوبہ بنا رہا ہے، جن میں ہمسایہ ملک بیلاروس بھی شامل ہے جو پہلے ہی روس کو ایندھن فراہم کر رہا ہے۔

ماہرین کے مطابق یہ صورتحال ظاہر کرتی ہے کہ جنگی دباؤ اور توانائی کے انفراسٹرکچر پر حملوں نے روس کی اندرونی سپلائی چین کو شدید متاثر کیا ہے، خاص طور پر گرمیوں کے موسم میں جب ایندھن کی طلب عروج پر ہوتی ہے، دلچسپ امر یہ ہے روس جو بھارت کو سستا تیل فروخت کرنے کے لیے مشہور ہے اور روس سے تیل خریدنے کے باعث بھارت امریکہ کے تعلقات میں کشیدگی پیدا ہوئ آج وہی روس بھارت سے تیل خرید رہا ہے جو کبھی اس سے سستا تیل خرید کر یورپ اور دیگر ممالک کو فروخت کرتا رہا ہے ، اب دیکھنا ہے امریکہ یورپ جو یوکرین کے اتحادی ہیں اور روس کے خلاف یوکرین کی معاشی فوجی مدد کررہے ہیں وہ روس کو تیل فروخت کرنے پر کس ردعمل کا اظہار کرتے ہیں خصوصا امریکہ جو ان دنوں بھارت سے معاشی ڈیل بنانے کے آخری مرحلے میں ہے

مزید پڑھیں