Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

ہومبین الاقوامی خبریںورلڈ بینک نے این ایف سی ایوارڈ: وفاقی نظامِ مالیات کا بھانڈہ...

ٹرینڈنگ

ورلڈ بینک نے این ایف سی ایوارڈ: وفاقی نظامِ مالیات کا بھانڈہ پھوڑ دیا، یہاں میرٹ کی جگہ سب سیاسی ہے

ورلڈ بینک نے این ایف سی ایوارڈ: وفاقی نظامِ مالیات کا بھانڈہ پھوڑ دیا، یہاں میرٹ کی جگہ سب سیاسی ہے

ورلڈ بینک کی تازہ رپورٹ “اسٹرینتھننگ فِسکل فیڈرلزم اِن پاکستان” نے این ایف سی ایوارڈ کے بارے میں ایک سخت اور تنقیدی تصویر پیش کی ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ 2009 کے بعد صوبوں کو ملنے والے مالی وسائل کے استعمال نے ریاستی کارکردگی اور عوامی خدمات کی فراہمی پر گہرے سوالات اٹھا دیے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق این ایف سی ایوارڈ نے ایک طرف صوبوں کو مالی خودمختاری اور آمدن کی قابلِ پیش گوئی تقسیم فراہم کی، لیکن دوسری طرف وسائل کی تقسیم کا طریقہ کار “غیر شفاف اور مختلف سیاسی سمجھوتوں پر مبنی” رہا ہے، جس میں واضح تکنیکی اصولوں کی کمی نظر آتی ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق 2009 کے بعد صوبوں کو مجموعی قومی پیداوار کے مقابلے میں تقریباً 2 فیصد زیادہ مالی وسائل منتقل ہوئے، لیکن ان میں سے بڑی اکثریت جاری اخراجات—خصوصاً تنخواہوں اور پنشن—پر خرچ ہو گئی۔ رپورٹ کے مطابق تقریباً 82 فیصد اضافی وسائل انتظامی اخراجات کی نذر ہوئے۔

تعلیم کے شعبے میں بھاری اخراجات کے باوجود نتائج بہتر نہیں ہوئے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بعض صوبوں میں تعلیمی بجٹ میں کئی گنا اضافہ ہوا، لیکن اسکولوں میں داخلوں اور خواندگی کی شرح میں بہتری کے بجائے کمی یا جمود دیکھا گیا۔

رپورٹ کے مطابق خیبر پختونخوا نسبتاً بہتر کارکردگی دکھانے والا صوبہ رہا، جبکہ سندھ اور بلوچستان کو مجموعی طور پر کمزور کارکردگی والے صوبوں میں شمار کیا گیا ہے۔

ورلڈ بینک کے مطابق صوبائی حکومتوں کے اخراجات میں اضافے کا زیادہ تر رجحان پچھلے سال کے بجٹ پر مبنی رہا، نہ کہ سماجی ضرورت یا محرومی کے مطابق، جس سے وسائل کی مؤثر تقسیم متاثر ہوئی۔

رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ پاکستان کا مسئلہ صرف تکنیکی نہیں بلکہ سیاسی معیشت کا ہے، جہاں مالی وسائل پر کنٹرول کو طاقت اور سیاسی اتحادوں کو برقرار رکھنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔

آخر میں مصنف کے مطابق اس نظام کو ختم کرنے کے بجائے مزید نچلی سطح تک اختیارات کی منتقلی اور صوبائی حکومتوں کی انتخابی سطح پر جوابدہی کو مضبوط بنانے کی ضرورت ہے

مزید پڑھیں