Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

ہومامریکہہمیشہ کی جنگوں کا خاتمہ کرنے کا وعدہ، اب ٹرمپ ایران کے...

ٹرینڈنگ

ہمیشہ کی جنگوں کا خاتمہ کرنے کا وعدہ، اب ٹرمپ ایران کے ساتھ نہ ختم ہونے والے مذاکرات کے جال میں؟

ہمیشہ کی جنگوں کا خاتمہ کرنے کا وعدہ، اب ٹرمپ ایران کے ساتھ نہ ختم ہونے والے مذاکرات کے جال میں؟

واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے انتخابی مہم کے دوران مشرقِ وسطیٰ کی “ہمیشہ چلنے والی جنگوں” سے امریکہ کو دور رکھنے کا وعدہ کیا تھا، مگر اب ان کی حکومت کو ایک مختلف مگر اتنی ہی پیچیدہ آزمائش کا سامنا ہے۔ ایران کے ساتھ جاری مذاکرات بار بار تعطل کا شکار ہو رہے ہیں، جس سے یہ خدشہ بڑھ رہا ہے کہ فوجی جنگ کی جگہ ایک طویل، غیر یقینی اور مسلسل سفارتی کشمکش جنم لے سکتی ہے

وال اسٹریٹ کی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے تجزیہ کاروں کے مطابق جنگ بندی اور ابتدائی مفاہمتی فریم ورک کے بعد توقع تھی کہ چند ہفتوں میں جوہری پروگرام، پابندیوں میں نرمی، آبنائے ہرمز کی سلامتی اور علاقائی تنازعات جیسے بنیادی معاملات پر پیش رفت ہو جائے گی، لیکن مذاکرات بار بار انہی نکات پر واپس آ جاتے ہیں۔ واشنگٹن کا مؤقف ہے کہ ایران کو اپنے جوہری پروگرام پر ٹھوس ضمانتیں دینا ہوں گی، جبکہ تہران پابندیوں کے خاتمے اور اقتصادی فوائد کو ترجیح دے رہا
ماہرین کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ ایک مشکل دوراہے پر کھڑے ہیں۔ اگر وہ دوبارہ فوجی کارروائی کرتے ہیں تو ان پر اپنے انتخابی وعدے سے انحراف کا الزام لگ سکتا ہے، اور اگر مذاکرات کو غیر معینہ مدت تک جاری رکھتے ہیں تو ناقدین اسے ایران کی وقت حاصل کرنے کی حکمت عملی قرار دے رہے ہیں۔ اسی لیے بعض مبصرین کا کہنا ہے کہ “ہمیشہ کی جنگ” سے بچنے کا وعدہ شاید “ہمیشہ کے مذاکرات” کی صورت اختیار کرتا دکھائی دے رہا ہے۔
فی الحال وائٹ ہاؤس سفارتی راستہ کھلا رکھنے پر زور دے رہا ہے، تاہم امریکی حکام یہ بھی واضح کر چکے ہیں کہ اگر ایران نے معاہدے کی شرائط کی خلاف ورزی کی یا دوبارہ اشتعال انگیز اقدامات کیے تو فوجی آپشن بھی میز پر موجود رہے گا۔ اس کے باعث خطے میں غیر یقینی صورتحال برقرار ہے اور دنیا کی نظریں واشنگٹن اور تہران کے اگلے قدم پر جمی ہوئی ہیں۔

مزید پڑھیں