سابق امریکی خفیہ ادارے کے سربراہ نے ٹرمپ انتظامیہ کے خلاف عدالت سے رجوع کر لیا
سابق امریکی خفیہ ادارے کے سربراہ نے ٹرمپ انتظامیہ کے خلاف عدالت سے رجوع کر لیا
واشنگٹن: امریکی مرکزی خفیہ ادارے کے سابق سربراہ جان برینن نے محکمۂ انصاف کی جاری تحقیقات کے خلاف وفاقی عدالت میں مقدمہ دائر کر دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر ان پر فردِ جرم عائد کی گئی تو وہ مؤقف اختیار کریں گے کہ یہ کارروائی قانون کے تقاضوں کے بجائے صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کی انتظامیہ کی انتقامی سیاست کا نتیجہ ہے۔
عدالت میں دائر درخواست میں برینن کے وکلا نے مطالبہ کیا ہے کہ محکمۂ انصاف کے اعلیٰ حکام کو تحقیقات سے متعلق تمام ریکارڈ محفوظ رکھنے کا حکم دیا جائے۔ ان کے مطابق یہ دستاویزات مستقبل میں اس مؤقف کے ثبوت کے طور پر استعمال کی جائیں گی کہ اگر مقدمہ چلایا گیا تو اس کا مقصد انصاف فراہم کرنا نہیں بلکہ ٹرمپ کے ایک دیرینہ ناقد سے سیاسی انتقام لینا ہوگا۔
یہ اقدام ایسے وقت سامنے آیا ہے جب حالیہ دنوں میں مسلسل یہ اطلاعات سامنے آ رہی ہیں کہ محکمۂ انصاف جلد ہی برینن کے خلاف باقاعدہ فردِ جرم عائد کر سکتا ہے۔ ماہرین کے مطابق کسی ممکنہ فردِ جرم سے پہلے عدالت سے اس نوعیت کی پیشگی مداخلت کی درخواست غیر معمولی سمجھی جا رہی ہے


