Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

ہومبین الاقوامی خبریںایران سے تجارت کا نیا چورن بیچا جا رہا ہے۔ تیل و...

ٹرینڈنگ

ایران سے تجارت کا نیا چورن بیچا جا رہا ہے۔ تیل و گیس کی امپورٹ ، حکومت اور سٹیک ہولڈرز کا مشترکہ منافع بخش وینچر ؟

ایران سے تجارت کا نیا چورن بیچا جا رہا ہے۔ تیل و گیس کی امپورٹ ، حکومت اور سٹیک ہولڈرز کا مشترکہ منافع بخش وینچر ؟

ایران پر عائد عالمی پابندیوں کے خاتمے کے اعلان کے بعد پاکستان کے حکومتی وزرا اور بعض تجزیہ نگار پاکستان کے عوام کو نوید سنا رہے ہیں کہ ایران سے سستی پٹرولیم مصنوعات اور بجلی لی جائے گی جس سے ملک خوشحالی کی طرف گامزن ہو جائے گا۔ امریکی اور عالمی پابندیوں کے دوران پاکستان ایران سے بڑی تعداد میں تیل اور گیس سپلائز سستے داموں لیتا رہا ہے اور اُس غیر قانونی تجارت سے دونوں ملکوں کو فائدہ ہوا۔ بلوچستان اور سندھ کے بااثر سیاستدانوں کی آشیر باد سے ایران بارڈر کے قریب بسنے والے مقامی باشندوں کی بڑی تعداد نے تیل و گیس کی سپلائی سے پیسہ بنایا جبکہ سرحد کی حفاظت اورسمگلنگ کی روک تھام پر مامور سیکورٹی اداروں کے اس غیر قانونی تجارت میں مُلوث ہونے کے الزامات بھی سامنے آتے رہے ہیں ۔ اندازوں کے مطابق گزشتہ کئی برسوں سے ملکی ضروریات کا بیس سے بائیس فیصد پیٹرول اور ڈیزل ایران سے سمگل ہو رہا ہے، اس ملٹی بلین ڈالر آئل ٹریڈ سے مستفید ہونے والوں میں بعض اعلیٰ سیاسی و عسکری شخصیات شامل ہیں۔ ایرانی تیل کم درجے کا ہے جسکو دوسرے امپورٹڈ تیل کیساتھ مکس کر کے پیٹرول پمپوں پر بیچا جا رہا تھا۔ پابندیوں کے خاتمے کے بعد ایران اپنا تیل عالمی منڈیوں کے نرخوں پر بیچے گا شاید ہمیں مارکیٹ ریٹ سے کچھ سستا دے مگر اس تیل کی کوالٹی بہتر بنانے کیلئے ہمیں اپنی ریفائنریوں کو اپ گریڈ کرنا ہو گا جسپر خطیر رقم اور وقت صرف ہو گا۔ جہاں تک تعلق ہے گیس کا تو ایران پاکستان پائپ لائن تعمیر ہونے سے یقیناً پاکستان کو فائدہ ہو گا مگر اصل فائدہ تبھی ممکن ہے جب اس پائپ لائن کو بھارت تک لیجایا جائے، اس صورت میں تعمیر اور دیکھ بھال کے اخراجات بھی کم ہوں گے اور ٹرانزٹ فیس کی مد میں بھاری رقم بھی حاصل ہو سکتی ہے۔ تیل اور گیس کی خلیجی ممالک خصوصاً سعودی عرب اور قطر سے امپورٹ میں میاں نواز شریف اور وزیر اعظم شہباز شریف کی خصوصی دلچسپی رہی ہے اور انکی فیملی کے افراد پر مبینہ طور پر کمیشن اور کِک بیکس کے لینے کےالزامات برسوں سے لگائے جا رہے ہیں۔ اسلام آباد سے موصولہ اطلاعات کے مطابق کچھ سالوں سے ملک کے طاقتور ادارے بھی تیل اور گیس کی امپورٹ کے منافع بخش دھندے میں باقاعدہ شریک ہو گئے ہیں ، جبکہ پیٹرولیم اور پاور کی وزارتوں میں تمام اہم فیصلے بھی وزیر اعظم اور اسٹیبلشمنٹ ملکر کرتے ہیں۔

مزید پڑھیں