امریکی ایوانِ نمائندگان میں اسرائیلی فوجی امداد پر تاریخی ترمیم کا ڈرامائی فیصلہ، واشنگٹن کی سیاست ہل کر رہ گئی
امریکی ایوانِ نمائندگان میں اسرائیلی فوجی امداد پر تاریخی ترمیم کا ڈرامائی فیصلہ، واشنگٹن کی سیاست ہل کر رہ گئی
⸻
امریکی ایوانِ نمائندگان میں آج ہونے والی انتہائی اہم ووٹنگ میں اسرائیل کو دی جانے والی سالانہ 3.3 ارب ڈالر کی فوجی امداد روکنے کی ترمیم کو شدید سیاسی مقابلے کے بعد ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔
ووٹنگ کے نتیجے میں یہ مجوزہ ترمیم مطلوبہ اکثریت حاصل نہ کر سکی اور ایوان میں مسترد کر دی گئی، جس کے بعد اسرائیلی دفاعی امداد کا موجودہ نظام برقرار رہنے کا فیصلہ سامنے آیا۔
یہ ترمیم ایک ایسے وقت میں پیش کی گئی تھی جب امریکہ کے اندر اسرائیل کے لیے فوجی امداد کے تسلسل پر پہلے ہی سیاسی تقسیم بڑھ رہی تھی۔ مجوزہ اقدام کے تحت اس مالی امداد کو دفاعی اخراجات کے سالانہ بل سے الگ کرنے اور عملی طور پر محدود کرنے کی کوشش کی گئی تھی۔
بحث کے دوران ایوان میں غیر معمولی گرما گرمی دیکھنے میں آئی، جہاں ایک طرف چند ارکان نے اسے امریکی ٹیکس دہندگان کے پیسوں کا غیر ضروری استعمال قرار دیا، تو دوسری طرف بڑی تعداد نے اسے مشرقِ وسطیٰ میں امریکی اتحادی کی سلامتی سے جوڑ کر دفاع کیا۔
اسی پیکج کے اندر آئرن ڈوم میزائل دفاعی نظام کے لیے علیحدہ امداد کو نسبتاً زیادہ حمایت حاصل رہی، جس کے باعث مجموعی ترمیمی کوشش مزید کمزور ہو گئی۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اگرچہ یہ ترمیم ناکام ہو گئی ہے، لیکن اس نے امریکی کانگریس میں اسرائیلی امداد کے معاملے پر بڑھتی ہوئی دراڑ کو واضح کر دیا ہے، اور آنے والے بجٹ مباحث میں یہ موضوع مزید شدت اختیار کر سکتا ہے


