کیا ایران کے اعلیٰ مذہبی رہنما کی ممکنہ آخری رسومات میں بھارت کی نمائندگی نئی سفارتی سمت کی علامت ہے؟
کیا ایران کے اعلیٰ مذہبی رہنما کی ممکنہ آخری رسومات میں بھارت کی نمائندگی نئی سفارتی سمت کی علامت ہے؟
بھارتی حکومت کی جانب سے ایک جونیئر مرکزی وزیر اور ایک ریاستی گورنر کو ایران بھیجنے کے فیصلے نے جنوبی ایشیا اور مشرقِ وسطیٰ کی سفارت کاری میں نئی بحث چھیڑ دی ہے، خاص طور پر اس دعوے کے تناظر میں کہ ایران نے وزیراعظم نریندر مودی کو بھی اس موقع پر مدعو کیا تھا۔
رپورٹس اور سیاسی تجزیوں کے مطابق بھارت کی جانب سے اعلیٰ سطح کے بجائے نسبتاً کم درجے کی نمائندگی بھیجنے کا فیصلہ اس سوال کو جنم دے رہا ہے کہ کیا نئی دہلی اپنی مشرقِ وسطیٰ پالیسی میں محتاط توازن یا سفارتی فاصلے کی نئی حکمتِ عملی اپنا رہی ہے۔
ایران کی سیاسی و مذہبی قیادت، جس میں سپریم لیڈر علی خامنہ ای کا نام اس پس منظر میں لیا جا رہا ہے، خطے میں ایک انتہائی اہم اور حساس مقام رکھتی ہے، اور اسی لیے اس نوعیت کی کسی بھی تقریب میں بین الاقوامی نمائندگی کو اکثر سفارتی اشارہ سمجھا جاتا ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگرچہ بھارت اور ایران کے تعلقات توانائی، تجارت اور علاقائی رابطوں کے تناظر میں مسلسل اہمیت رکھتے ہیں، لیکن نمائندگی کی سطح اکثر سیاسی ترجیحات اور عالمی طاقتوں کے ساتھ توازن کی عکاسی بھی کرتی ہے۔
ماہرین کے مطابق یہ معاملہ اس بات کا اشارہ ہو سکتا ہے کہ نئی دہلی اپنی مشرقِ وسطیٰ پالیسی میں کسی بڑے اعلان کے بجائے مرحلہ وار، محتاط اور کثیرالجہتی سفارت کاری کو ترجیح دے رہا ہے، تاہم اسے کسی واضح “پالیسی تبدیلی” کے طور پر دیکھنے کے لیے مزید سرکاری وضاحت اور عملی اقدامات کا انتظار ضروری ہے، واضع رہے امریکہ ایران اسرائیل کشیدگی کے عروج پر بھارت اسرائیل کے ساتھ کھڑا تھا بعض اطلاعات کے مطابق بھارتی شہری اسرائیلی فوج کے ساتھ ملکر غزہ میں جنگی دھشت گردی میں بھی ملوث بتائے جاتے ہیں ، جبکہ ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کی اسرائیلی بمباری میں موت پر بھارت نے ایران سے تعزیت کرنے سے بھی گریز کیا جبکہ گزشتہ روز نریندرا مودی نے ایرانی صدر سے فون پر امریکہ اسرائیل سے تنازعہ اور اسکے خطے پر پڑنے والے اثرات پر تفصیلی بات کی ہے


