Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

ہومپاکستانآزاد کشمیر میں مظاہرے، شوکت میر گرفتار ، اسلام آباد کے خلاف...

ٹرینڈنگ

آزاد کشمیر میں مظاہرے، شوکت میر گرفتار ، اسلام آباد کے خلاف شدید نعرے، عوامی حقوق اور بنیادی سہولیات پر احتجاج

آزاد کشمیر میں مظاہرے، شوکت میر گرفتار ، اسلام آباد کے خلاف شدید نعرے، عوامی حقوق اور بنیادی سہولیات پر احتجاج

پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے علاقے راولا کوٹ میں ہزاروں افراد نے ایک بڑے احتجاجی مظاہرے میں شرکت کی، جہاں مظاہرین نے حکومتی پالیسیوں، بنیادی سہولیات کی کمی اور مبینہ انتظامی دباؤ کے خلاف شدید نعرے بازی کی۔

مظاہرین نے خوراک کی ترسیل پر مبینہ پابندیوں اور انتظامی غفلت کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ علاقے کے عوام کو بنیادی حقوق سے محروم رکھا جا رہا ہے۔ احتجاج کے دوران بعض شرکاء نے وفاقی حکومت پر نظر انداز کرنے اور معاشی و سماجی استحصال کے الزامات بھی عائد کیے۔

رپورٹس کے مطابق مظاہرے میں شریک بعض افراد نے سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے وفاقی انتظامیہ کے خلاف جذباتی نعرے لگائے، تاہم حکومتی سطح پر ان دعوؤں اور بیانات پر فوری طور پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔

سیاسی مبصرین کے مطابق یہ احتجاج خطے میں دیرینہ معاشی، انتظامی اور سیاسی مسائل کی عکاسی کرتا ہے، جو وقت کے ساتھ ساتھ مزید پیچیدہ صورت اختیار کرتے جا رہے ہیں، واضع رہے اسلام آباد حکومت نے جوائینٹ ایکشن کشمیر کمیٹی کے ایک اہم رہنما شوکت نواز میر کو انکے ساتھیوں سمیت گرفتار کرلیا ہے اور سیکورٹی فورسز نے دعویٰ کیا ہے شوکت میر کی گرفتاری کے لیے جانے والے سیکورٹی اہلکاروں پر فائرنگ کی گئی جبکہ ملزمان کے قبضے سے جدید اسلحہ برآمد کرنے کا دعویٰ بھی کیا گیا ہے ، پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے سیاسی و صحافی حلقوں کا کہنا ہے شوکت میر کی گرفتاری کی جسطرح حکومتی حلقے منظر نگاری کررہے ہیں اس سے جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے رہنماؤں جنکی ایک بڑی اکثریت ابھی تک روپوش ہے فائدہ پہنچے گا اور حکومتی ساکھ کو نقصان ہوگا ، ذمہ دار ذرائع کا دعویٰ ہے شوکت نواز میر کی گرفتاری جوائنٹ ایکشن کمیٹی اور حکومت کی انڈر اسٹینڈ نگ سے ہوئ ہے اور دونوں حریفوں کے درمیان بعض معاملات پر مذاکرات کے لیے انڈراسٹینڈگ ہوچکی ہے تاہم حکومت نے کشمیر جوائنٹ کمیٹی کے رہنماؤں سے کہا ہے ان پر مقدمات میں ریاست عدالتی فیصلوں کا احترام کرے گی مگر کشمیر کمیٹی کے رہنماؤں کو عدالتی مقدمات کا سامنا کرنا پڑے گا، حکومت کے اس موقف کو کشمیر کمیٹی نے تسلیم کرنے سے انکار کردیا ہے اور کہا ہے حکومت تمام مقدمات غیر مشروط طور پر واپس لے ورنہ تحریک جاری رہے گی

مزید پڑھیں