Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

ہومکالم / بلاگجہاں میں اہل ایماں صورت جنرل انور علی حیدر جیتے ہیں

ٹرینڈنگ

جہاں میں اہل ایماں صورت جنرل انور علی حیدر جیتے ہیں

جہاں میں اہل ایماں صورت جنرل انور علی حیدر جیتے ہیں

آفاق فاروقی
ادھر ڈوبے، ادھر نکلے، ادھر نکلے، ادھر ڈوبے…
یہ پاکستان کا وہ قدیم اور مسلسل چلنے والا بیانیہ ہے جس میں چہرے بدلتے ہیں، نام بدلتے ہیں، عہدے بدلتے ہیں، مگر منظرنامہ وہی رہتا ہے۔ جیسے کوئی کشتی ہو جو ہر بار نئی سمت میں دھکیلی جاتی ہے، مگر سمندر وہی، طوفان وہی، اور کنارے کی دوری بھی وہی۔

لیفٹیننٹ جنرل (ر) انور علی حیدر جیسے افسران کا ذکر آئے تو ایک پورا نظامی تسلسل سامنے آتا ہے۔ عسکری تربیت، وار اسٹڈیز، فیلڈ کمانڈز، بٹالین کی سخت زندگی، اور پھر اچانک معیشت، ہاؤسنگ، دفاعی انتظام، فاؤنڈیشنز، اور اب اطلاعات کے مطابق ہوا بازی جیسے شعبے۔ گویا نصاب ایک ہی ہے، صرف کلاس روم بدل جاتا ہے۔

اور پھر عوام کے ذہن میں وہی پرانا سوال جنم لیتا ہے:
اگر اتنی ہی ہمہ گیر صلاحیت ہے تو یہ ملک بار بار ایک ہی مقام پر کیوں آ کر کھڑا ہو جاتا ہے؟

ادھر چہرے بدلتے ہیں، ادھر نظام وہی رہتا ہے۔
ادھر تقرریاں ہوتی ہیں، ادھر خسارے بڑھتے ہیں۔
ادھر دعوے آتے ہیں، ادھر کشکول پھر ہاتھ میں آ جاتا ہے۔

پاکستان میں اب ایک اور دلچسپ منظرنامہ ہے۔ کوئی کہتا ہے ’’اندر سے صفائی‘‘ ہونے جا رہی ہے، کوئی کہتا ہے اداروں کے اندر بڑی تبدیلیاں آئیں گی، کوئی اسے ’’پروول‘‘ کہتا ہے، کوئی واپسی کا دروازہ سمجھتا ہے، کوئی سمجھتا ہے کہ یہی چہرے کسی نہ کسی شکل میں دوبارہ نمودار ہو جائیں گے۔ مگر نتیجہ ہمیشہ وہی: چہرے بدل جاتے ہیں، ڈھانچہ نہیں بدلتا۔

ادھر عوام کا مزاج بھی اسی چکر میں گھوم رہا ہے۔ مایوسی بڑھتی ہے، غم بڑھتا ہے، نفرت بڑھتی ہے، اور اعتماد کم ہوتا جاتا ہے۔ ہر نئی خبر کے بعد امید کا ایک چھوٹا سا دیا جلتا ہے اور اگلی ہی خبر میں بجھ جاتا ہے۔

اور پھر دنیا کا منظر دیکھ لیجیے۔
جنوبی کوریا میں معیشت کا یہ حال ہے کہ ملازمتیں زیادہ اور لوگ کم پڑ رہے ہیں۔ ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت، اور صنعتی ترقی نے وہاں روزگار کا ایسا طوفان کھڑا کیا ہے کہ لیبر مارکیٹ دباؤ میں ہے۔ جاپان، جرمنی، امریکہ — ہر جگہ نئے معاشی ماڈلز، نئی صنعتیں، اور نئی مہارتیں تیزی سے جگہ بنا رہی ہیں۔

اور یہاں؟
یہاں نوجوان ڈگریاں ہاتھ میں لیے اسی سوال کے ساتھ گھوم رہے ہیں کہ ’’نوکری کہاں ہے؟‘‘

ادھر دنیا مہارت کے نئے دور میں داخل ہو چکی ہے،
ادھر ہم چہرے بدلنے کے پرانے دور سے نکلنے کا نام نہیں لے رہے۔

اور اسی بیچ ہومر کی آواز کہیں دور سے گونجتی ہے، جیسے تاریخ خود طنز کر رہی ہو:
ادھر ڈوبے، ادھر نکلے…
ادھر نکلے، ادھر ڈوبے…

بس فرق یہ ہے کہ قدیم رزمیے میں یہ سفر ہیرو کا ہوتا تھا،
اور یہاں یہ سفر پورے معاشرے کا ہو چکا ہے

مزید پڑھیں