سپریم کورٹ کا ایک اور بڑا مگر عوامی امنگوں سے متصادم فیصلہ ،انتخابی اخراجات پر دہائیوں پرانی پابندی ختم
سپریم کورٹ کا ایک اور بڑا مگر عوامی امنگوں سے متصادم فیصلہ ،
انتخابی اخراجات پر دہائیوں پرانی پابندی ختم
امریکہ کی سپریم کورٹ آف دی یونائیٹڈ اسٹیٹس نے ایک تاریخی فیصلے میں انتخابی مہم کے مالیاتی ضوابط سے متعلق کئی دہائیوں سے نافذ پابندیوں کو غیر آئینی قرار دیتے ہوئے ختم کر دیا۔ عدالت نے 6 کے مقابلے میں 3 ججوں کی اکثریت سے فیصلہ دیا کہ قومی سیاسی جماعتوں پر اپنے امیدواروں کے ساتھ مل کر انتخابی مہم پر خرچ کی جانے والی رقم کی حد مقرر کرنا امریکی آئین کی پہلی ترمیم کے تحت حاصل آزادیِ اظہار کے حق سے متصادم ہے۔
یہ فیصلہ قدامت پسند جج بریٹ کیوانا نے تحریر کیا، جس میں کہا گیا کہ سیاسی اخراجات بھی اظہارِ رائے کی ایک شکل ہیں، لہٰذا حکومت ایسے اخراجات پر غیر ضروری پابندیاں عائد نہیں کر سکتی۔
یہ مقدمہ موجودہ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس اور نیشنل ریپبلکن سینیٹوریل کمیٹی، نیشنل ریپبلکن کانگریشنل کمیٹی سمیت دیگر درخواست گزاروں کی جانب سے دائر کیا گیا تھا۔ اس وقت جے ڈی وینس سن 2022 کے انتخابات میں ریاست اوہائیو سے سینیٹ کی نشست کے لیے ریپبلکن امیدوار تھے۔ ان کے ساتھ سابق رکنِ کانگریس اسٹیو چیبوٹ بھی اس مقدمے میں شامل تھے، جو 2022 کا انتخاب ہار گئے تھے۔
عدالت کے فیصلے کے مطابق سیاسی جماعتوں اور ان کے امیدواروں کے درمیان انتخابی مہم کے دوران مالی تعاون پر عائد حدیں آئین کے منافی ہیں، کیونکہ اس سے سیاسی پیغام رسانی اور اظہارِ رائے محدود ہوتا ہے۔
ماہرین کے مطابق اس فیصلے کے بعد امریکی انتخابات میں سیاسی جماعتیں اپنے امیدواروں کے ساتھ مل کر پہلے سے کہیں زیادہ مالی وسائل استعمال کر سکیں گی، جس سے انتخابی مہمات مزید مہنگی اور بڑی ہو سکتی ہیں۔ دوسری جانب ناقدین کا کہنا ہے کہ اس فیصلے سے بڑی سیاسی جماعتوں اور دولت مند عطیہ دہندگان کا اثر و رسوخ مزید بڑھنے کا خدشہ ہے، جبکہ حامیوں کے مطابق یہ فیصلہ آئینی آزادیوں اور سیاسی اظہارِ رائے کے حق کو مضبوط بناتا ہے۔
یہ فیصلہ امریکی انتخابی نظام اور انتخابی مالیات کے قوانین پر دور رس اثرات مرتب کرنے والا ایک اہم عدالتی سنگِ میل قرار دیا جا رہا ہے


