Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

ہومامریکہامریکی عدالتِ عظمیٰ نے پیدائشی شہریت کا اصول برقرار رکھا، ٹرمپ کی...

ٹرینڈنگ

امریکی عدالتِ عظمیٰ نے پیدائشی شہریت کا اصول برقرار رکھا، ٹرمپ کی سخت امیگریشن پابندی مسترد

امریکی عدالتِ عظمیٰ نے پیدائشی شہریت کا اصول برقرار رکھا، ٹرمپ کی سخت امیگریشن پابندی مسترد
امریکی سپریم کورٹ آف دی یونائیٹڈ اسٹیٹس نے ایک تاریخی اور انتہائی اہم فیصلے میں پیدائشی شہریت کے اصول کو برقرار رکھتے ہوئے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی اُس ایگزیکٹو پالیسی کو غیر آئینی قرار دے دیا جس کے تحت امریکہ میں غیر قانونی طور پر مقیم یا عارضی حیثیت رکھنے والے افراد کے بچوں کو شہری تسلیم کرنے سے انکار کیا جانا تھا۔
سپریم کورٹ آف دی یونائیٹڈ اسٹیٹس نے اپنے فیصلے میں واضح کیا کہ چودھویں آئینی ترمیم کی دیرینہ اور مستحکم تشریح کے مطابق وہ تمام افراد جو امریکہ کی سرزمین پر پیدا ہوتے ہیں، وہ عمومی طور پر امریکی شہری شمار ہوتے ہیں، سوائے چند محدود اور مخصوص استثنائی صورتوں کے۔
عدالت نے قرار دیا کہ صدر ٹرمپ کی تجویز کردہ پابندیاں آئینی دائرہ اختیار سے باہر تھیں اور انہیں ملک کی کئی نچلی عدالتوں نے پہلے ہی روک دیا تھا، اس لیے یہ پالیسی کہیں بھی نافذ العمل نہ ہو سکی۔

یہ معاملہ اس وقت مزید اہمیت اختیار کر گیا جب سماعت کے دوران نہ صرف قدامت پسند بلکہ لبرل ججوں نے بھی اس ایگزیکٹو حکم کی قانونی حیثیت پر سخت سوالات اٹھائے۔ یہ لمحہ اس لیے بھی غیر معمولی قرار دیا جا رہا ہے کہ سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ خود بھی سماعت کے دوران عدالت میں موجود تھے، جو اس نوعیت کے مقدمات میں ایک غیر معمولی منظر تھا۔

ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے پیش کردہ یہ پالیسی امیگریشن کے سخت ترین اقدامات میں شمار کی جا رہی تھی، مگر عدالت کے فیصلے نے ایک بار پھر یہ واضح کر دیا کہ آئینی ترمیمات کے بنیادی اصول کو صدارتی حکم نامے کے ذریعے تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔

یہ فیصلہ امریکہ میں امیگریشن، شہریت اور آئینی تشریح کے حوالے سے ایک سنگِ میل قرار دیا جا رہا ہے، جو آئندہ برسوں میں بھی قانونی اور سیاسی بحثوں کو متاثر کرتا رہے گا

مزید پڑھیں