Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

ہومپاکستانپانی جغرافیہ نہیں خوراک اور زندگی ہے ، بلاول بھٹو ، پاکستان...

ٹرینڈنگ

پانی جغرافیہ نہیں خوراک اور زندگی ہے ، بلاول بھٹو ، پاکستان کی طرف سے بھارت پر پانی کی روک پر اچانک دباؤ معنی خیز ہے ؟

پانی جغرافیہ نہیں خوراک اور زندگی ہے ، بلاول بھٹو ، پاکستان کی طرف سے بھارت پر پانی کی روک پر اچانک دباؤ معنی خیز ہے ؟
اسلام آباد میں سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا ہے کہ پانی صرف جغرافیہ نہیں بلکہ خوراک مستقبل اور زندگی کا سوال ہے، آبنائے ہرمز کی بندش نے عالمی معیشت کو متاثر کیا۔
‎بلاول بھٹو زرداری کا کہنا ہے کہ دریائے سندھ کا پانی پاکستان کی زندگی کی ضمانت ہے، سمندری گزر گاہوں یا آبی وسائل کو بطور ہتھیار استعمال کرنا عالمی امن کے لیے خطرناک رجحان ہے۔

انہوں نے کہا ہے کہ دنیا کو احساس ہو چکا ہے کہ پانی کے وسائل عالمی سیاست اور سلامتی کا مرکزی مسئلہ بن چکے ہیں، دنیا کو پانی کو ہتھیار بنانے کے خطرے کی سنگینی کو سمجھنا ہو گا۔
ان کا کہنا ہے کہ اکیسویں صدی پانی کی بندش، آبی وسائل کو ہتھیار بنانے کے خطرے سے دو چار ہو سکتی ہے، عالمی برادری کو مشترکہ آبی گزرگاہوں کو ہتھیار بنانے کے خلاف نئے بین الاقوامی قوانین وضع کرنا ہوں گے۔
‎چیئرمین پیپلز پارٹی  نے کہا ہے کہ ایسا نہ ہو کہ مستقبل میں ہر دریا، آبنائے، نہر اور ہر زیریں بہاؤ والا ملک بالادست ریاستوں کے دباؤ کا شکار بن جائے، بھارتی رویہ پوری دنیا کے لیے خطرناک مثال بن سکتا ہے، سندھ طاس معاہدہ برقرار رہنا ضروری ہے، پاکستان اپنے آبی حقوق اور دریائے سندھ پر کسی صورت سمجھوتہ نہیں کرے گا۔
‎بلاول بھٹو زرداری کا کہنا ہے کہ کسی ملک کی پانی کی فراہمی کو جان بوجھ کر روکنا ایک وجودی حملہ ہے، بھارت کا مقصد پاکستان کے آبی حقوق کو نقصان پہنچانا ہے، اگر پاکستان کے پانی کو روکنا جنگ کے مترادف ہے تو اس کی طرف بڑھنے والا ہر قدم بھی معمول کا معاملہ نہیں سمجھا جا سکتا۔
‎انہوں نے کہا ہے کہ دریائے سندھ کا بطور ہتھیار استعمال کا جواب سیاسی، سفارتی اور قانونی سمیت ہر فورم پر دینا ہو گا، پاکستان جنگ نہیں چاہتا لیکن ہر صورت اپنے بنیادی مفادات کا تحفظ کرے گا، پاکستان کی دفاعی صلاحیت کا مقصد ہی ایسے وجودی خطرات کو روکنا ہے۔
‎ان کا کہنا ہے کہ بھارت کو یہ تاثر نہیں ملنا چاہیے کہ وہ پاکستان پر دباؤ بڑھاتا رہے اور پاکستان صرف احتجاج تک محدود رہے گا، مؤثر دفاع اسی وقت ممکن ہے جب مخالف فریق یہ جان لے کہ سرخ لکیر عبور کرنے کی اسے کیا قیمت ادا کرنا پڑے گی، یہ کسی گھبراہٹ یا مہم جوئی کی دعوت نہیں۔
‎چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا ہے کہ یہ وقت ہمیں سنجیدگی، واضح حکمتِ عملی اور بین الاقوامی قانون کے مطابق اپنے حقوق کے دفاع کا مطالبہ کرتا ہے، دریائے سندھ محض ایک دریا نہیں ہے، دریائے سندھ ایک تہذیب، کروڑوں انسانوں کی زندگی، پاکستان کی معیشت اور اس کے مستقبل کی بنیاد ہے، پاکستان اپنے آبی حقوق کے تحفظ کے لیے ہر جائز اور قانونی اقدام کرے گا۔
واضع رہے کہ گزشتہ سال مئی میں پاک بھارت کشیدگی اور چار روزہ جنگ کے نتیجے میں بھارت نے پاکستان کا پانی بند کرکے سندھ طاس معاہدے کی دھجیاں اڑا دیں تھیں اور کہا تھا کہ وہ کسی صورت پاکستان کے حصے کا پانی بحال نہیں کرے گا اور بھارت اپنی اس ضد پر تاحال قائم بھی ہے اور پاکستان اس ایک سال کے عرصے میں مجموعی طور پر دیکھو اور انتظار کرو کی پالیسی پر عمل کرنے کے ساتھ عالمی عدالت گیا جہاں بھارت عدالتی احکامات اور جواب طلبی کو ردی کی ٹوکری میں پھینک کر خاموشی اختیار کیا بیٹھا ہے تاہم اچانک پاکستانی حکومتی و سیاسی قیادت کے ساتھ عسکری حلقے اور قیادت بھی سندھ طاس معاہدے کی بحالی کے مطالبے کے ساتھ متحرک ہوگئی ہے جس کا مطلب یہ لیا جارہا ہے ایک ایسے وقت میں جب دنیا ایران امریکہ جنگ اور آبنائے ہرمز کی بندش کے باعث بڑے معاشی بحران کا سامنا کررہی ہے پاکستان بھارت کی جانب سے بین الاقوامی معاہدے کی خلاف ورزی کو اجاگر کرکے دنیا کی توجہ حاصل کرنا چاہتا ہے اور پیغام دے رہا ہے اگر پاک بھارت کے درمیان پانی کے مسئلے کو فوری حل نہ کرایا گیا تو ممکن ہے دنیا دو ایٹمی طاقتوں کے درمیان بڑی کشیدگی کے نتیجے میں ایک اور بڑے بحران کا سامنا کرسکتی ہے جس سے عالمی معشیت مذید تباہی کی طرف جاسکتی ہے

مزید پڑھیں