Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

ہومبریکنگ نیوزجب کفن بھی خواب بن جائے

ٹرینڈنگ

جب کفن بھی خواب بن جائے


جب کفن بھی خواب بن جائے

وہ باپ اپنے جوان بیٹے کی میت کو کندھوں پر اٹھائے قبرستان پہنچا، مگر اس کے ہاتھ میں کفن نہیں تھا۔ وجہ صرف ایک تھی… اس کے پاس کفن خریدنے کے لیے بھی پیسے نہیں تھے۔

یہ منظر ملتان کے علاقے رشید آباد میں سامنے آیا، جہاں پچیس سالہ دانش کے انتقال کے بعد اس کے والد انتہائی بے بسی کے عالم میں میت کو بغیر کفن تدفین کے لیے قبرستان لے گئے۔ اہلِ خانہ پہلے ہی شدید معاشی تنگی کا شکار تھے اور گھر کی حالت اس قدر ابتر تھی کہ آخری رسومات کے لیے درکار چند سو روپے بھی میسر نہ تھے۔

قبرستان میں موجود لوگوں نے جب یہ منظر دیکھا تو فضا سوگوار ہوگئی۔ اطلاع ملنے پر مقامی پولیس فوری طور پر وہاں پہنچی اور انسانی ہمدردی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کفن کا انتظام کیا، جس کے بعد تدفین مکمل کی گئی۔ یہ ایک قابلِ تحسین اقدام تھا، مگر اس سے بھی بڑا سوال وہ ہے جو اس واقعے نے پورے معاشرے کے سامنے کھڑا کر دیا۔

یہ صرف ایک خاندان کی غربت نہیں، بلکہ اس معاشی بحران کی تصویر ہے جس میں لاکھوں پاکستانی زندگی گزار رہے ہیں۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ملک کی بڑی آبادی غربت کی لکیر سے نیچے زندگی بسر کر رہی ہے، جبکہ سابق وزیرِ خزانہ حفیظ پاشا اور ممتاز ماہرِ معاشیات قیصر بنگالی سمیت متعدد ماہرین کا کہنا ہے کہ حقیقی شرح اس سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے۔ ان کے مطابق لاکھوں خاندان ایسے ہیں جن کے لیے دو وقت کی روٹی کا حصول بھی ایک روزانہ کی جدوجہد بن چکا ہے۔

معاشیات کے ماہرین برسوں سے خبردار کر رہے ہیں کہ جب ریاست میں وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم، بدعنوانی، بے قابو مہنگائی اور کمزور نظم و نسق ایک ساتھ جمع ہو جائیں تو سب سے پہلے انسان کی عزتِ نفس مجروح ہوتی ہے۔ آج یہی سوال پاکستان کے سامنے کھڑا ہے کہ اگر ایک باپ اپنے بیٹے کے لیے کفن تک خریدنے کی استطاعت نہ رکھتا ہو تو غربت کی اس سے زیادہ المناک تصویر اور کیا ہو سکتی ہے؟

عمرانی مفکر ابن خلدون نے صدیوں پہلے لکھا تھا کہ جب معاشرے میں انصاف کمزور اور معاشی بوجھ بڑھنے لگے تو ریاست کی بنیادیں اندر ہی اندر کھوکھلی ہونے لگتی ہیں۔ اسی طرح ایرک فروم کا کہنا تھا کہ مسلسل معاشی محرومی انسان سے صرف اس کی آمدنی نہیں چھینتی، بلکہ اس کا وقار بھی چھین لیتی ہے۔

یہ واقعہ ایک اور تلخ سوال بھی چھوڑ گیا ہے۔ ہم مذہبی شعار کے اظہار میں شاید پہلے سے زیادہ سرگرم ہیں، مگر اگر ایک محلے میں ایک باپ کفن نہ خرید سکے اور کسی کو اس کی خبر ہی نہ ہو تو پھر معاشرے کی اخلاقی ذمہ داری پر سوال اٹھنا فطری ہے۔

اس خبر کا سب سے دردناک پہلو شاید یہی نہیں کہ ایک نوجوان بغیر کفن قبرستان پہنچا، بلکہ یہ ہے کہ ایک باپ اپنی زندگی کی سب سے بڑی آزمائش میں اس احساس کے ساتھ کھڑا تھا کہ وہ اپنے بیٹے کو آخری لباس بھی نہ دے سکا

مزید پڑھیں