Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

ہومپاکستانپاکستان کے وزیر بڑ کا بھارت سے قانون انصاف کے مطابق...

ٹرینڈنگ

پاکستان کے وزیر بڑ کا بھارت سے قانون انصاف کے مطابق چلنے کا انتہای عجب مطالبہ

پاکستان کے وزیر بڑ کا بھارت سے قانون انصاف کے مطابق چلنے کا انتہای عجب مطالبہ
وفاقی وزیر مصدق ملک نے کہا ہے کہ سندھ طاس معاہدہ دنیا کےمضبوط ترین معاہدوں میں سے ایک ہے، کسی کو علاقائی اور عالمی امن یرغمال بنانے کی اجازت نہیں دی جا سکتی، مصدق ملک جو پاکستانی سیاست میں بڑ باز اور چھچھوری سیاست کے باعث مشہور ہیں اور اسی بڑ کی بنیاد پر پاکستانی سیاست میں انکی گنجائش نکلی ہے نے
اسلام آباد میں سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان نے تباہ کن سیلابوں کا سامنا کیا، یہ ماحولیاتی مسئلہ نہیں، انصاف کا معاملہ ہے، پاکستان میں بڑے طبقے کا ذریعہ معاش زراعت ہے، اصل مسئلہ پانی کو کنٹرول کر کے بطور ہتھیار استعمال کرنا ہے۔
وفاقی وزیر جو گزشتہ دنوں یہ بھی کہہ چکے ہیں “ اگر کسی نے ہمارے پانی پر ہاتھ ڈالنے کی کوشش کی تو اسکے ہاتھ کاٹ دیں گے “ نے کہا ہے کہ پاکستان واضح کر چکا ہے کہ وہ اپنے حصے کے پانی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔

ان کا کہنا ہے کہ پانی کی عدم دستیابی سے کسان زراعت چھوڑنے پر مجبور ہو رہے ہیں، اس سے صرف پاکستانی ہی نہیں بلکہ بنگلادیش کے لوگ بھی متاثر ہو رہے ہیں، دریائے نیل ہو یا فرات، ہر جگہ اسی قسم کی کہانیاں ہیں، پاکستان ، افریقا یا بنگلادیش ہر جگہ ایک جیسی کہانیاں ہیں، بھارت ہمارے پانی کے بہاؤ کو کنٹرول ہی نہیں کرتا بلکہ دنیا کا تیسرا آلودگی پھیلانے والا ملک بھی ہے۔
وفاقی وزیر نے مزید کہا کہ بھارت کی وجہ سے ہمارے 6 ہزار لوگ جاں بحق اور ہزاروں زخمی ہو چکے، 6 ہزار لوگ جنگوں میں بھی نہیں مرتے، یہ معاہدہ دو ہمسایہ ملکوں کے درمیان 3 جنگوں میں بھی قائم رہا، اگر یہ مضبوط ترین معاہدہ قائم نہ رہا تو پھر دنیا کا کوئی بھی معاہدہ قائم نہیں رہ سکتا۔
‎ان کا کہنا ہے کہ عالمی ثالثی عدالت بہت واضح فیصلے دے چکی، عالمی ثالثی عدالت قرار دے چکی کہ کوئی ملک یکطرفہ طور پر سندھ طاس معاہدہ معطل یا ختم نہیں کر سکتا، عالمی ثالثی عدالت قرار دے چکی کہ بھارت پاکستان کے حصے کے پانیوں پر پانی کے ذخائر نہیں بنا سکتا، بھارت عالمی ثالثی عدالت کے فیصلوں کو تسلیم کرنے بھی انکاری ہے، اگر یہ معاہدہ کامیاب نہیں ہوا تو پھر دنیا کے ہر نشیبی ملک کے حصے کا پانی
روکا جائے گا ، ادھر بھارت نے پہلگام میں دھشت گردی کے نتیجے میں دونوں ملکوں کے درمیان جنگی کشیدگی کو سال سے زائد عرصہ ہوچکا جب سے پانی روک رکھا ہے اور پاکستانی حکومت کے نمائندے بھولے بسرے سندھ طاس معاہدے پر بات کرتے ہیں جبکہ پاکستان عالمی عدالت میں بھی یہ معاملہ لیکر گیا تھا تاہم بھارت عالمی عدالت کو بھی خاطر میں نہیں لایا ، بھارت کی جانب سے پانی روکے جانے کے بعد سے اب پہلی بار پاکستانی حکومتی نمائندے گزشتہ چند دن سے تواتر کے ساتھ پانی ، سندھ طاس معاہدہ اور ریڈ لائنُ جیسی صورت حال پر ہیجانی گفتگو کررہے ہیں جس کے باعث کچھ تجزیہ نگار سمجھتے ہیں پاکستان دراصل ایرن امریکہ ڈیل میں اپنے کردار کے باعث امریکہ پر دباؤ ڈال رہا ہے کہ ایسے میں کے جب امریکہ بھارت اکنامی معاہدہ ہونے کے قریب ہے امریکہ بھارت پر دباؤ ڈال کر پانی کے مسئلے کا منصفانہ حل نکال سکتا ہے ، یہ تجزیہ نگار کہتے ہیں فارم پنتالیس سینتالیس کی حکومتی وزرا کے منہ سے انصاف ، اخلاق اور امن کی باتیں کچھ عجب سی لگتی ہیں جو لوگ اپنے معاشرے اپنے لوگوں کے ساتھ انصاف قانون کے ذریعے ڈیل نہیں کرتے وہ دنیا کے دوسرے ملکوں اور معاشروں سے قانون انصاف کے مطابق چلنے کے مطالبات پیش کررہے ہیں

مزید پڑھیں