امریکی ایوانِ نمائندگان نے بچوں کی آن لائن حفاظت کا بل منظور کر لیا، ڈیجیٹل آزادی کے خدشات بھی سامنے
امریکی ایوانِ نمائندگان نے بچوں کی آن لائن حفاظت کا بل منظور کر لیا، ڈیجیٹل آزادی کے خدشات بھی سامنے
واشنگٹن: ریاستہائے متحدہ امریکا کے ایوانِ نمائندگان نے بچوں کے لیے آن لائن تحفظ سے متعلق ایک جامع قانون سازی پیکج بھاری اکثریت سے منظور کر لیا ہے، جس کے حق میں 267 اور مخالفت میں 117 ووٹ ڈالے گئے۔
یہ پیکج “بچوں کے انٹرنیٹ اور ڈیجیٹل تحفظ کا قانون” کے نام سے پیش کیا گیا تھا، جس کے تحت بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں پر نئی حفاظتی پابندیاں عائد کی جائیں گی۔
قانون کے مطابق آن لائن پلیٹ فارمز کو بچوں کے لیے اضافی حفاظتی فیچرز اور پیرنٹل کنٹرولز فراہم کرنا ہوں گے، جبکہ کم عمر صارفین کے ڈیٹا کو ٹارگٹڈ اشتہارات کے لیے استعمال کرنے پر سخت پابندیاں لگائی جائیں گی۔
اس کے علاوہ پورنوگرافی ویب سائٹس کے لیے عمر کی تصدیق لازمی قرار دینے، اور مصنوعی ذہانت پر مبنی چیٹ بوٹس اور آن لائن گیمز کے لیے نئے ضوابط بھی شامل ہیں۔
بل کے حامیوں کا کہنا ہے کہ یہ قانون بچوں کو آن لائن خطرات سے بچانے اور بڑی ٹیک کمپنیوں کو جوابدہ بنانے کے لیے ضروری ہے، تاہم ڈیجیٹل رائٹس اور ٹیکنالوجی سے متعلق گروپس نے خبردار کیا ہے کہ اس سے پرائیویسی اور اظہارِ رائے کی آزادی متاثر ہو سکتی ہے


