ایک ٹریلین ڈالر مالیت کی شرط، اوپن اے آئی کی حصص بازار میں آمد مؤخر ہونے کا امکان
ایک ٹریلین ڈالر مالیت کی شرط، اوپن اے آئی کی حصص بازار میں آمد مؤخر ہونے کا امکان
مصنوعی ذہانت کے شعبے کی نمایاں کمپنی اوپن اے آئی کی حصص بازار میں متوقع آمد میں تاخیر کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے، کیونکہ کمپنی اپنی مالیت ایک ٹریلین ڈالر سے کم پر عوامی حصص جاری کرنے کے لیے تیار نہیں۔
رپورٹس کے مطابق چیٹ جی پی ٹی تیار کرنے والی کمپنی اب تک نجی سرمایہ کاروں سے تقریباً 190 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری حاصل کر چکی ہے اور مصنوعی ذہانت کی تیزی سے بڑھتی ہوئی صنعت میں مرکزی حیثیت اختیار کر چکی ہے۔
اطلاعات کے مطابق کمپنی نے 8 جون 2026 کو امریکی سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن کے پاس عوامی حصص کے اجرا کے لیے ابتدائی خفیہ دستاویزات جمع کرائی تھیں، جس کے بعد سرمایہ کار اس کی متوقع فہرست بندی پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔
تاہم ذرائع کا کہنا ہے کہ اوپن اے آئی کی انتظامیہ ایک ٹریلین ڈالر کی مالیت سے کم پر سمجھوتہ کرنے کے لیے آمادہ نہیں، جس کے باعث کمپنی کی حصص بازار میں آمد توقع سے زیادہ دیر سے ہو سکتی ہے۔
مالیاتی ماہرین کے مطابق اگر کمپنی اپنی مطلوبہ مالیت برقرار رکھنے پر اصرار کرتی ہے تو اسے سرمایہ کاروں کے اعتماد، بازار کی صورتحال اور حصص کی طلب کے درمیان توازن قائم کرنا ہوگا، کیونکہ اتنی بلند مالیت پر عوامی حصص جاری کرنا مالیاتی منڈیوں کے لیے ایک بڑا امتحان ثابت ہو سکتا ہے


