آزاد کشمیر میں معمولات زندگی واقعی بحال ہونا شروع؟ کاروبار اور ٹرانسپورٹ ریاستی دباؤ میں مکمل نہ کھل سکے
آزاد کشمیر میں معمولات زندگی واقعی بحال ہونا شروع؟ کاروبار اور ٹرانسپورٹ ریاستی دباؤ میں مکمل نہ کھل سکے
مظفرآباد: آزاد جموں و کشمیر کے دارالحکومت مظفرآباد میں ہفتوں پر محیط ہڑتال ریاستی طاقت سے ختم کرانے کی کوششیں کسی حد تک کامیاب ہوئ ہیں مگر معمولات زندگی پوری طرح بحال ہونا نہیں ہوسکے ہیں ، ٹرانسپورٹر کی ہڑتال سے کہیں زیادہ سیکورٹی اداروں کے ناکے چوکیوں نے ہڑتال کی کامیابی میں اہم کردار ادا کیا ہے جہاں پاکستان یا آزاد کشمیر کے شہروں کے درمیان چلنے والی ٹرانسپورٹ کو نیم فوجی و فوجی سیکورٹی اداروں کے دستوں کی نگرانی میں قائم چوکیوں نے کشمیری عوام کی نقل و حرکت کو مشکل بنانے کے ساتھ رسد کی نقل و حرکت پر بھی پابندی عائد کررکھی تھی ، طاقت کے زور پر تاجر اور ٹرانسپورٹرز کی جانب سے شٹر ڈاؤن بظاہر ختم ہوچکی ہے جس کے بعد دعویٰ کیا جارہا ہے وادی کے کئی علاقوں میں کاروباری سرگرمیاں دوبارہ شروع ہو گئیں جبکہ پبلک ٹرانسپورٹ بھی سڑکوں پر واپس آ گئی ہے، مگر آزاد ذرائع ان دعوؤں کی نفی کرتے نظر آتے ہیں اور انکا کہنا ہے عوام میں خوف ہراس کے ساتھ مایوسی غصہ اشتعال پہلے کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہے مگر بچوں بیماروں بوڑھوں خواتین کی بھوک بیماری کے ساتھ ضروریات زندگی کی بنیادی اشیا سے لیکر روزمرہ کے معمولات کے فطری تقاضوں نے فوری طور پر ممکن ہے آزاد کشمیر کے عوام کو جھکا دیا ہو مگر مستقل کے امن پر طاقت کے استعمال نے گہرے سوالیہ نشان لگا دئیے ہیں
یہ ہڑتال 9 جون سے شروع ہوئی تھی، جس کے باعث پورے آزاد کشمیر میں تجارتی سرگرمیاں اور روزمرہ زندگی بڑی حد تک مفلوج ہو کر رہ گئی تھیں۔ بعد ازاں مرکزی تاجر تنظیم اور ٹرانسپورٹ نمائندوں پر ریاستی طاقت اور جبر سے یہ ہڑتال ختم کرنے کا اعلان کیا گیا
تاجروں کے مطابق شہر میں 50 فیصد کاروبار دوبارہ کھل چکے ہیں، تاہم مکمل بحالی ابھی ممکن نہیں ہو سکی،ان کے مطابق انٹرنیٹ سروسز کی بندش، آن لائن بینکنگ میں رکاوٹ، بینکوں کے محدود آپریشن اور ایندھن کی کمی جیسے مسائل اب بھی موجود ہیں
شہر کی بڑی سڑکیں، جو کئی ہفتوں سے ویران تھیں، کسی حد تک مصروف نظر آنے لگی ہیں جبکہ مقامی اور بین الاضلاعی روٹس پر مسافر گاڑیوں کی آمدورفت بھی کسی حد تک بحال ہو گئی ہے
شہر کے مرکزی تجارتی علاقے مدینہ مارکیٹ میں صورتحال اب بھی جزوی طور پر بند ہے، جہاں کپڑے، کاسمیٹکس اور الیکٹرانکس کی دکانوں میں تقریباً 30 فیصد دکانیں ہی کھل سکی ہیں، تاہم راولا کوٹ، کوٹلی میر پور ، پلندری سے نیلم ویلی تک بڑے پیمانے پر کاروبار زندگی اب بھی مکمل بند ہے اور بعض مقامات پر دھرنے اور احتجاجی اجتماع جاری ہیں، آزاد کشمیر جہاں عوام ریاست کو اسکی انکی مرضی سے چلانے اور حکمران اشرافیہ کی مراعات اور پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کی دلالی کے عوض کشمیر اسمبلی میں بارہ مہاجرین نشتوں کے خاتمے کے ساتھ دیگر مطالبات کررہے ہیں اور جنہیں پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کی قومی سطح پر بظاہر حکومت چلانے والی اتحادی پارٹیوں مسلم لیگ اور پی پی کے حکومت میں شامل نمائندوں نے تسلم بھی کرلیا تھا مگر وقت گزر جانے پر مطالبات تسلیم نہ کیے گئے تو عوامی ایکشن کمیٹی نے پوری وادی میں نو جون سے شٹر ڈاؤن ہڑتال کے ساتھ لانگ مارچ کا اعلان کررکھا تھا ، جسے ناکام بنانے اور کشمیر ایکشن کمیٹی کو ریاستی اسٹیبلشمنٹ سے ٹکرانے کے جرم میں دھشت گرد قرار دیکر ایکشن کمیٹی کے رہنماؤں کو غدار بھارتی ایجنٹ قرار دیکر گرفتار کرنے کا حکم دیدیا تھا تاہم ایکشن کمیٹی کے اراکین روپوش ہوگئے تھے اور اسی روپوشی کے دوران انہوں نے اپنے مطالبات تسلیم کیے جانے کی شرط پر اسٹیبلشمنٹ اور اسکی پاکستان میں دلال حکومت کے نمائندوں سے مذاکرات جاری رکھے ہوئے ہیں جو ابھی کسی کروٹ نہیں بیٹھے ہیں


