زیادہ تر سیلاب متاثرین اب بھی روزگار سے محروم، بحالی میں شدید مشکلات: رپورٹ
زیادہ تر سیلاب متاثرین اب بھی روزگار سے محروم، بحالی میں شدید مشکلات: رپورٹ
اسلام آباد: ایک نئی تحقیقی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ گزشتہ برس آنے والے بڑے سیلاب کے بعد پاکستان میں متاثرہ خاندانوں کی بڑی تعداد اب بھی اپنے روزگار اور معاشی استحکام کی بحالی میں شدید مشکلات کا شکار ہے، جبکہ حکومت کی جانب سے آئندہ بجٹ میں متاثرین کی مدد کے لیے واضح اور مضبوط سیاسی عزم نظر نہیں آتا۔
یہ نتائج پتن-کولیشن 38 کی جانب سے تیار کی گئی رپورٹ میں سامنے آئے ہیں، جو مئی اور جون 2026 کے دوران کیے گئے ایک سروے پر مبنی ہے۔ اس سروے میں پنجاب اور خیبر پختونخوا کے 35 شدید متاثرہ دیہی اور دریا کنارے کے علاقوں سے تعلق رکھنے والے 140 متاثرہ گھرانوں سے معلومات حاصل کی گئیں۔
رپورٹ کے مطابق اس تحقیق کا مقصد یہ جانچنا تھا کہ متاثرہ آبادی کس حد تک بحالی کے عمل سے گزر چکی ہے، وہ آج کس قسم کی معاشی اور سماجی کمزوریوں کا سامنا کر رہی ہے، اور مستقبل میں ممکنہ سیلابوں کے لیے ان کی تیاری کی سطح کیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ حکومتی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اور بحالی کے اقدامات کے بارے میں عوامی رائے بھی شامل کی گئی۔
رپورٹ میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ متاثرہ علاقوں میں بحالی کا عمل یکساں نہیں رہا اور مختلف علاقوں اور طبقات میں واضح تفاوت پایا جاتا ہے۔ کئی خاندان اب بھی بنیادی معاشی سرگرمیوں سے محروم ہیں، جس کے باعث ان کی زندگیوں میں عدم استحکام اور معاشی دباؤ برقرار ہے۔
تحقیقی رپورٹ کے مطابق حکومت کی جانب سے اگرچہ یہ تسلیم کیا گیا ہے کہ موسمیاتی تبدیلیاں اور قدرتی آفات ملکی معیشت پر سنگین اثرات ڈال رہی ہیں، تاہم متاثرین کی مکمل بحالی اور آئندہ نقصانات سے بچاؤ کے لیے پالیسی سطح پر عملی اقدامات کی کمی واضح دکھائی دیتی ہے۔
رپورٹ میں زور دیا گیا ہے کہ پائیدار بحالی کے لیے نہ صرف ہنگامی امداد بلکہ طویل المدتی منصوبہ بندی، انفراسٹرکچر کی بہتری اور آفات سے نمٹنے کے مضبوط نظام کی ضرورت ہے تاکہ مستقبل میں اس نوعیت کے بحرانوں کے اثرات کم کیے جا سکیں


