سی ٹی ڈی کی بربریت سے تسلی نہ ملی اب پیش ہے ہیبچوئل آفنڈرز اینڈ اینٹی سوشل بیہیویئر بل
سی ٹی ڈی کی بربریت سے تسلی نہ ملی اب پیش ہے ہیبچوئل آفنڈرز اینڈ اینٹی سوشل بیہیویئر بل
لاہور: پنجاب جہاں سی ٹی ڈی پولیس نے گزشتہ ایک سال میں پندرہ سو زائد افراد کو جعلی جھوٹے پولیس مقابلوں میں مار ڈالا اب اسمبلی میں کنٹرول آف ہیبچوئل آفنڈرز اینڈ اینٹی سوشل بی ہیویئر بل 2026” کے مجوزہ ڈرافٹ پر سیاسی، قانونی اور سماجی حلقوں میں بحث تیز ہو گئی ہے، جس کے تحت عادی مجرموں اور معاشرتی طور پر خطرناک سمجھے جانے والے افراد کے خلاف انتظامی سطح پر سخت اقدامات کی تجویز دی گئی ہے۔
مجوزہ قانون کے مطابق ضلعی سطح پر خصوصی کمیٹیاں تشکیل دینے کی تجویز زیر غور ہے، جو مختلف ذرائع سے حاصل ہونے والی معلومات کی بنیاد پر افراد کو “عادی مجرم” قرار دینے کی سفارش کر سکیں گی۔ ان سفارشات کی بنیاد پر مبینہ طور پر بعض انتظامی پابندیاں بھی لگائی جا سکتی ہیں جن میں سفر کی پابندی، دستاویزات کی معطلی اور دیگر انتظامی اقدامات شامل ہونے کی بات سامنے آ رہی ہے۔
قانونی ماہرین اور اپوزیشن سے وابستہ حلقوں کی جانب سے اس مجوزہ قانون پر تحفظات کا اظہار کیا جا رہا ہے، جن کا مؤقف ہے کہ اگر اس میں واضح عدالتی نگرانی، شفاف طریقہ کار اور مؤثر اپیل کے نظام کی ضمانت موجود نہ ہو تو اس کے شہری آزادیوں پر اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
حکومتی ذرائع کے مطابق مجوزہ قانون کا مقصد منظم جرائم کی روک تھام اور ایسے افراد کی نگرانی کو مؤثر بنانا ہے جو بار بار سنگین نوعیت کے جرائم میں ملوث پائے جاتے ہیں، تاہم حتمی مسودہ ابھی زیر غور ہے اور اس میں پارلیمانی بحث کے دوران مزید ترامیم کا امکان بھی موجود ہے۔
ادھر انسانی حقوق سے وابستہ بعض تنظیموں نے بھی اس مجوزہ فریم ورک پر سوالات اٹھائے ہیں اور کہا ہے کہ کسی بھی ایسے قانون میں ریاستی اختیارات اور شہری آزادیوں کے درمیان واضح توازن اور عدالتی نگرانی ناگزیر ہے۔
مجوزہ بل پنجاب اسمبلی میں بحث کے مرحلے سے گزرنے کے بعد ہی اپنی حتمی شکل اختیار کرے گا، جس کے بعد اس کے عملی اثرات اور دائرۂ کار واضح ہو سکیں گے


