ملی ترانوں ،رنگین اشتہارات ستھرے پنجاب میں کرپشن کی داستان۔ ایل ڈی اے میں لوٹ مار کے نئے ریکارڈ قائم
ملی ترانوں ،رنگین اشتہارات ستھرے پنجاب میں کرپشن کی داستان۔ ایل ڈی اے میں لوٹ مار کے نئے ریکارڈ قائم
ملی نغموں اور ترانوں کی گونج میں ستھرا پنجاب کے حکومتی ُوزرا اور ممبران اسمبلی کی کرپشن بغیر روک ٹوک جاری ہے۔ لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی میں ایک طرف نئی سڑکوں کی تعمیر اور کمرشلائزیشن میں اربوں روپوں کی دیہاڑی لگائ جا رہی ہے دوسری طرف ڈویلپمنٹ اسکیموں میں ممبران اسمبلی کا کمیشن دس فیصد سے بڑھ کر بیس تیس فیصد ہو چکا ہے جبکہ افسران اور اسٹاف کا حصہ الگ ہے۔ لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی میں اربوں روپے کے تعمیراتی اور ڈویلپمنٹ کے کام ایک نیب زدہ اعلیٰ افسر گذشتہ کئی برسوں سے ٹھکیداروں سے ایڈوانس کمیشن لیکر بانٹ رہا ہے۔ کنٹریکٹرز سے لئے گئے کمیشن میں سے ممبر اسمبلی یا وزیر کو اسکا حصہ نہایت ایمانداری سے پہنچا دیا جاتا ہے۔ کنٹریکٹرز کو اس آفیسر کی حدایت ہے کہ کمیشن کی رقم ایڈوانس میں انکے دفتر میں کار خاص کو ٹھیکہ ملنے سے قبل ادا کی جائے۔ سسٹم اسقدر طاقتور ہے کہ فنڈز نہ ہونے کہ باوجود کنٹریکٹر کروڑوں روپے کے کام شروع کر دیتے ہیں کیونکہ انکو یقین ہے کہ کمیشن یا پرسنٹیج دینے سے انکی ادائیگیاں جلد یا بدیر ہو جائیں گی۔ ایل ڈی اے میں فنڈز کی فراوانی اور کمیشن کی بروقت ادائیگی کو دیکھتے ہوئے لاہور کے قریبی اضلاع کے ُوزرا اور ممبران نے اپنی ڈویلپمنٹ اسکیموں کا کام دوسرے سرکاری محکموں سے لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی میں شفٹ کر دیا ہے۔ کچھ عرصہ قبل مبینہ طور پر لاہور سے تعلق رکھنے والی اسلام آباد میں مقیم ایک اہم حکومتی شخصیت نے کمیشن کی رقم پوری نہ دینے پر متعلقہ افسر سے بقیہ رقم کا چیک لیا۔ ذرائع کے مطابق تقریباً اسی فیصد ممبران پنجاب اسمبلی ڈویلپمنٹ اسکیموں سے اپنے ٹھکیداروں یا کمیشن کے ذریعے کمائی کرتے ہیں ۔ ایل ڈی اے کے افسران کا دعوی ہے کہ حکومت، ادارے اور میڈیا کی بڑی شخصیات انکو تحفظ فراہم کرتے ہیں اور کوئی انکا بال بھی بیکا نہیں کر سکتا۔ ایل ڈی اے کے ذیلی محکموں ٹیپا اور واسا میں بھی منظور نظر کرپٹ افسران تعینات ہیں جو اوپر تک حصہ پہنچاتے ہیں۔ پرکشش اور کمائی والی سیٹوں پر لگانے کے کروڑوں روپے لئے جاتے ہیں جبکہ ایماندار افسران کی اہم سیٹوں پر تعیناتی تقریبا ناممکن ہو گئی ہے ۔


