سپریم جوڈیشل کونسل نے ہٹ اینڈ رن کیس میں اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج کے خلاف شکایت خارج کر دی
سپریم جوڈیشل کونسل نے ہٹ اینڈ رن کیس میں اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج کے خلاف شکایت خارج کر دی
اسلام آباد: سپریم جوڈیشل کونسل نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج محمد آصف کے خلاف دائر شکایت کو خارج کرتے ہوئے ان کے خلاف مبینہ اثر و رسوخ استعمال کرنے کے الزامات پر کارروائی ختم کر دی ہے۔
یہ شکایت اس الزام کے تحت دائر کی گئی تھی کہ جج نے اپنے عہدے کو استعمال کرتے ہوئے اپنے بیٹے سے منسوب ایک ہٹ اینڈ رن کیس میں اثر انداز ہونے کی کوشش کی۔ معاملہ اس وقت سامنے آیا تھا جب اسلام آباد میں پاکستان نیشنل کونسل آف آرٹس کے قریب ایک تیز رفتار اسپورٹس یوٹیلیٹی وہیکل نے اسکوٹر پر سوار دو لڑکیوں کو ٹکر مار دی تھی، جس کے نتیجے میں دونوں لڑکیوں کی موت واقع ہو گئی تھی۔
حادثے کے بعد مبینہ طور پر جج کے کم عمر بیٹے کو پولیس نے حراست میں لیا تھا۔ بعد ازاں 6 دسمبر 2025 کو ایک جوڈیشل مجسٹریٹ نے اسے اس وقت رہا کرنے کا حکم دیا جب متاثرہ خاندانوں نے عدالت کے سامنے معافی دے دی تھی، جس کی قانونی بنیاد پاکستان پینل کوڈ کے تحت قصاص اور دیت سے متعلق دفعات تھیں۔
سپریم جوڈیشل کونسل نے تمام الزامات کا جائزہ لینے کے بعد شکایت کو ناقابلِ سماعت قرار دیتے ہوئے معاملہ بند کر دیا ہے


