بھارتی فوج کی نئی جنگی حکمتِ عملی: ’انٹیگریٹڈ بیٹل گروپس‘ کا آغاز، لڑائی کا انداز بدلنے کی تیاری
بھارتی فوج کی نئی جنگی حکمتِ عملی: ’انٹیگریٹڈ بیٹل گروپس‘ کا آغاز، لڑائی کا انداز بدلنے کی تیاری
بھارتی فوج آئندہ ایک ماہ کے دوران اپنی نئی جنگی حکمتِ عملی کے تحت مربوط جنگی گروپس کو مرحلہ وار فعال کرنے جا رہی ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق اس منصوبے کا آغاز سب سے پہلے سترہویں کور سے کیا جائے گا۔
انٹیگریٹڈ بیٹل گروپس دراصل ایسی خودمختار جنگی فارمیشنز ہیں، جن میں پیدل فوج، بکتر بند دستے، توپ خانہ، فضائی دفاع، انجینئرنگ یونٹس، مواصلاتی نظام اور لاجسٹک سہولیات کو ایک ہی کمان کے تحت منظم کیا جاتا ہے، تاکہ ضرورت پڑنے پر یہ یونٹ فوری طور پر کارروائی کے لیے متحرک ہو سکیں۔
بھارتی فوج کا مؤقف ہے کہ اس نئے نظام کا مقصد روایتی فوجی ڈھانچے کو زیادہ تیز رفتار، لچکدار اور مؤثر بنانا ہے، تاکہ سرحدی یا ہنگامی حالات میں فوج کم وقت میں نقل و حرکت کر سکے اور مربوط انداز میں کارروائی انجام دے سکے۔
دفاعی ماہرین کے مطابق انٹیگریٹڈ بیٹل گروپس کے نفاذ سے بھارتی فوج کی تعیناتی، نقل و حرکت اور جنگی کارروائیوں کے طریقۂ کار میں نمایاں تبدیلی آئے گی۔ اس حکمتِ عملی میں مختلف عسکری شعبوں کے درمیان بہتر رابطے، فوری فیصلہ سازی اور محدود وقت میں مؤثر ردِعمل پر خصوصی زور دیا گیا ہے۔
یہ منصوبہ بھارت کی فوجی جدیدکاری کے وسیع پروگرام کا حصہ سمجھا جا رہا ہے، جس کا مقصد مستقبل کے روایتی اور ہائبرڈ جنگی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے فوج کی صلاحیتوں کو مزید مضبوط بنانا ہے


