Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

ہومکالم / بلاگخاموش معاشرے عظیم ریاست بن سکتے ہیں ؟

ٹرینڈنگ

خاموش معاشرے عظیم ریاست بن سکتے ہیں ؟

خاموش معاشرے عظیم ریاست بن سکتے ہیں ؟
آفاق فاروقی

جیو نیوز پر حالیہ پابندی اور اس کے بعد فوری معذرت، وضاحت اور متنازع مواد ہٹانے کا واقعہ محض ایک ٹیلی وژن چینل کی کہانی نہیں، بلکہ پاکستان کے میڈیا، ریاست اور معاشرے کے درمیان قائم ہوتے اس تعلق کی علامت ہے جس پر آج پورا ملک بحث کر رہا ہے
اس معاملے میں دلچسپ بات یہ ہے کہ متنازع ویڈیو خود جیو نیوز نے تیار نہیں کی تھی، بلکہ ایک دستاویزی تناظر میں ایک ایسے مذہبی عمل کو دکھایا گیا تھا جو عراق میں بعض حلقوں کے ہاں رائج ہے،کوئی بھی دستاویزی فلم یا رپورٹ کسی واقعے، رسم یا نظریے کو دکھانے سے لازماً اس کی تائید نہیں کرتی،دنیا بھر میں صحافت اور دستاویزی فلم سازی کا بنیادی اصول یہی ہے کہ حقیقت کو دکھانا اور اس کی حمایت کرنا دو الگ چیزیں ہیں،لیکن پاکستان میں ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اب کسی حساس موضوع کا ذکر بھی خود ایک جرم بنتا جا رہا ہے
سوشل میڈیا پر اس پابندی کے بعد جو ردِعمل سامنے آیا، اس میں ایک نمایاں تاثر یہ تھا کہ ملک میں آزادیٔ اظہار کا دائرہ جو پہلے مسلسل سکڑ رہا تھا اب لپیٹنے کے مرحلے میں داخل ہوچکا ہے ، بہت سے صارفین، صحافی اور ناقدین کا کہنا ہے کہ میڈیا اب خبر دینے سے پہلے یہ سوچنے پر مجبور ہے کہ کون سی خبر یا تصویر کسی طاقتور حلقے کو ناگوار گزر سکتی ہے،اسی خوف نے صحافت کو احتساب کے ادارے سے بدل کر احتیاط کے ادارے میں تبدیل کرنا شروع کر دیا ہے
پاکستان جہاں کشمیر، داخلی احتجاج، انسانی حقوق یا مذہبی حساسیت جیسے موضوعات پر میڈیا میں ریاستی مؤقف سے ہٹ کر گفتگو کرنا ناممکن بنا دی گئی تھی اور بھارتی میڈیا کو گوڈی میڈیا کہنے والا پاکستانی میڈیا بھی مکمل بھارتی میڈیا کا عکس پیش کررہا تھا ، اس سب کے باوجود وہ ریاستی غضب سے کسی طور محفوظ نہیں اور جیو پر حملہ سب سے بڑی گواہی ہے ، اور پناقدین کا بھی یہی کہنا ہے کہ ایسے ماحول میں جب ملک میں سیاسی سماجی گھٹن کے ساتھ مہنگائی بے روزگاری بد امنی دھشت گردی اور انتہا پسندی ہر ہر سو بال کھولے وحشیانہ رقص کررہی ہے میڈیا کی بڑی تعداد سرکاری بیانیے کو ہی دہراتی نظر آتی ہے، جبکہ اختلافی آوازیں یا تو نظر انداز کر دی جاتی ہیں یا ان پر مختلف نوعیت کے دباؤ کی شکایات سامنے آتی رہتی ہیں۔ ان دعوؤں پر یقین کرنا یا نہ کرنا ایک الگ بحث ہے، لیکن یہ حقیقت ہے کہ یہ سوال آج پاکستانی سماج میں مسلسل زیرِ بحث ہیں
سیاسی فلسفی کارل پوپر نے کبھی کہا تھا کہ کھلا معاشرہ وہ ہوتا ہے جہاں حکومت پر سوال اٹھانا غداری نہیں بلکہ اصلاح کا ذریعہ سمجھا جائے،جب ریاست تنقید کو خطرہ سمجھنے لگتی ہے تو آہستہ آہستہ معاشرہ سوال پوچھنا چھوڑ دیتا ہے،اور جب سوال ختم ہو جائیں تو غلطیاں بھی مستقل ہو جاتی ہیں
میشیل فوکو نے طاقت کے بارے میں لکھا تھا کہ جدید ریاستیں صرف قانون کے ذریعے نہیں بلکہ خوف، نگرانی اور خود ساختہ احتیاط کے ذریعے بھی معاشروں کو منظم کرتی ہیں،انسان کو ہر وقت گرفتار کرنے کی ضرورت نہیں پڑتی؛ اگر اسے یقین ہو جائے کہ بولنے کی قیمت بہت زیادہ ہے تو وہ خود ہی خاموش ہو جاتا ہے،شاید یہی خاموشی کسی بھی معاشرے کی سب سے مہنگی قیمت ہوتی ہے
ابن خلدون نے ریاستوں کے عروج و زوال کا تجزیہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ طاقت صرف تلوار سے قائم نہیں رہتی بلکہ عدل، اعتماد اور اجتماعی ہم آہنگی سے قائم رہتی ہے،جب ریاست اور معاشرے کے درمیان اعتماد کمزور ہونے لگے تو طاقت ظاہری طور پر مضبوط دکھائی دیتی ہے، مگر اندر سے کھوکھلی ہونے لگتی ہے
امرتیہ سین نے ترقی کو صرف قومی آمدنی نہیں بلکہ آزادیوں سے تعبیر کیا ہے،ان کے نزدیک اظہارِ رائے، معلومات تک رسائی اور تنقید کا حق بھی ترقی کا حصہ ہیں،اگر ایک ملک بلند و بانگ معاشی اہداف کا اعلان کرے لیکن اس کے صحافی، اساتذہ، دانشور سیاسی کارکن اور شہری کھل کر بات نہ کر سکیں تو ترقی کے اعداد و شمار دیرپا بنیاد فراہم نہیں کر سکتے
آج پاکستان میں سرکاری سطح پر اقتصادی ترقی، علاقائی سفارت کاری اور عالمی کردار کی بات کی جاتی ہے،کبھی کہا جاتا ہے کہ پاکستان خطے میں ثالثی کا کردار ادا کر رہا ہے، کبھی مستقبل کی بڑی معاشی منزلوں کے خواب دکھائے جاتے ہیں،سفارت کاری یقیناً اہم ہے، لیکن تاریخ یہ بھی بتاتی ہے کہ کوئی ریاست صرف بین الاقوامی تعریف سے مضبوط نہیں بنتی،اگر اندرونی ادارے کمزور ہوں، میڈیا خوف میں ہو، اختلاف رائے محدود ہو اور نوجوان صحافی یہ سیکھ کر میدان میں آئیں کہ سچ بولنے کی قیمت بہت زیادہ ہے، تو پھر عالمی کانفرنسوں کی تصویریں اندرونی کمزوریوں کا علاج نہیں بن سکتیں ، ماضی میں ریاست پاکستان ازخود ان تجربات سے گزر چکی ہے اس سے بہتر کون جانتا ہے وقتی بین الاقومی تعریف گری ہوئ معشیت کو سہارا دیتی ہے نہ دھشت گردی بد امنی کو ختم کرسکتی ہے ان تمام کمزوریوں پر قابو پانے کا ایک ہی راستہ ہے عام لوگوں کے ساتھ میڈیا دانشور طبقوں اور سیاسی کارکنوں کی باتوں مطالبات پر کان دھرنا انکی شکایات کا ازالہ ہی ریاست کو ترقی خوشحالی و امن سے ہمکنار کرسکتا ہے
صحافت کا بنیادی کام حکومتوں کی تعریف کرنا نہیں بلکہ طاقت کا احتساب کرنا ہے،جب صحافی یہ سوچنے لگے کہ خبر سے پہلے اپنی سلامتی کا حساب لگانا ضروری ہے تو خبر کا معیار خود بخود بدل جاتا ہے،پھر معاشرہ آہستہ آہستہ معلومات نہیں بلکہ بیانیے سننے لگتا ہے
یہ بحث کسی ایک چینل، ایک حکومت یا ایک ادارے کی نہیں،یہ اس بنیادی سوال کی ہے کہ کیا ہم ایسا پاکستان چاہتے ہیں جہاں اختلاف دشمنی بن جائے، سوال جرم بن جائے اور خاموشی سب سے محفوظ راستہ قرار پائے؟ یا ایسا پاکستان جہاں ریاست اپنی طاقت کا اظہار تنقید برداشت کرنے کی صلاحیت سے کرے؟
تاریخ کا فیصلہ ہمیشہ ایک ہی رہا ہے۔ خاموش معاشرے وقتی استحکام تو پیدا کر لیتے ہیں، مگر پائیدار ترقی نہیں، عظیم ریاستیں خوف سے نہیں، اعتماد سے بنتی ہیں، اور اعتماد صرف وہاں جنم لیتا ہے جہاں قلم کو دشمن نہیں بلکہ آئینہ سمجھا جاتا ہے

مزید پڑھیں