Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

ہومبھارتآپریشن سندور کے ہلاک شدگان کے نام قومی جنگی یادگار تک پہنچنے...

ٹرینڈنگ

آپریشن سندور کے ہلاک شدگان کے نام قومی جنگی یادگار تک پہنچنے میں تقریباً ایک سال کی تاخیر کیوں ہوئی؟ سرکاری عمل کی تفصیل سامنے آگئی

آپریشن سندور کے ہلاک شدگان کے نام قومی جنگی یادگار تک پہنچنے میں تقریباً ایک سال کی تاخیر کیوں ہوئی؟ سرکاری عمل کی تفصیل سامنے آگئی

بھارت میں فوجی شہداء کی یاد کو محفوظ بنانے کے عمل کے تحت قومی جنگی یادگار نیشنل وار میموریل میں “تياگ چکر” پر نام کندہ کرنے کے لیے ایک سخت اور متعدد مراحل پر مشتمل تصدیقی نظام اختیار کیا جاتا ہے۔

رپورٹس کے مطابق “آپریشن سندور” کے شہداء کے نام اس عمل کے تحت تقریباً ایک سال بعد یادگار تک پہنچ سکے، جس کی بنیادی وجہ ہر نام کی مکمل اور حتمی تصدیق کا پیچیدہ طریقہ کار بتایا گیا ہے۔

حکام کے مطابق کسی بھی فوجی یا سیکیورٹی اہلکار کا نام قومی یادگار کا حصہ بنانے سے قبل مختلف سطحوں پر جانچ کی جاتی ہے تاکہ ریکارڈ میں کسی قسم کی غلطی، دہراؤ یا شناختی ابہام باقی نہ رہے۔ یہ تصدیقی عمل اس لیے ضروری سمجھا جاتا ہے تاکہ ملک کی سرکاری عسکری تاریخ میں درج ہر نام مکمل طور پر درست اور مستند ہو۔

فوجی حکام کا مؤقف ہے کہ یہ تاخیر کسی غفلت کا نتیجہ نہیں بلکہ ایک ادارہ جاتی طریقۂ کار ہے جو اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ یادگار پر درج ہر نام حتمی اور ناقابلِ تردید ہو۔

ماہرین کے مطابق قومی یادگاروں میں ناموں کی درستگی نہ صرف احترامِ شہداء کا تقاضا ہے بلکہ تاریخی ریکارڈ کی ساکھ کو برقرار رکھنے کے لیے بھی ناگزیر ہے

مزید پڑھیں