Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

ہومبھارتتحقیقی دنیا میں تشویش: عالمی سطح پر ریسرچ پیپرز کی واپسی میں...

ٹرینڈنگ

تحقیقی دنیا میں تشویش: عالمی سطح پر ریسرچ پیپرز کی واپسی میں بھارت سرفہرست، ٹاپ ۱۰ میں ۶ جامعات شامل

تحقیقی دنیا میں تشویش: عالمی سطح پر ریسرچ پیپرز کی واپسی میں بھارت سرفہرست، ٹاپ ۱۰ میں ۶ جامعات شامل

بھارت کی تعلیمی و سائنسی تحقیق کے عالمی معیار میں تیزی سے ابھار کے ساتھ ساتھ ایک نیا تنازع بھی سامنے آیا ہے، جہاں ریسرچ پیپرز کی واپسی (ریٹریکشن) کی شرح میں نمایاں اضافہ رپورٹ کیا گیا ہے۔

بین الاقوامی تعلیمی ڈیٹا کے مطابق بھارت کی چھ جامعات اس وقت دنیا کی ان دس یونیورسٹیوں میں شامل ہیں جہاں سب سے زیادہ تحقیقی مقالے واپس لیے گئے ہیں۔ اس رجحان نے تعلیمی حلقوں میں تشویش پیدا کر دی ہے اور تحقیق کے معیار پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔

ماہرین کے مطابق ریسرچ پیپرز کی واپسی کی بڑی وجوہات میں نقل شدہ مواد (پلیجیرزم)، جعلی یا کمزور پیئر ریویو سسٹم، اور ایسی ترغیبات شامل ہیں جن میں محققین پر تعداد بڑھانے کا دباؤ زیادہ ہوتا ہے جبکہ معیار کو ثانوی حیثیت دی جاتی ہے۔

تعلیمی مبصرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ بھارت میں تحقیقی پیداوار اور عالمی رینکنگز میں تیزی سے بہتری آئی ہے، لیکن ساتھ ہی شفافیت اور معیار کے نظام کو مضبوط بنانے کی ضرورت بھی بڑھ گئی ہے تاکہ سائنسی تحقیق پر اعتماد برقرار رکھا جا سکے۔

یہ صورتحال پالیسی سازوں، جامعات اور ریسرچ فنڈنگ اداروں کے لیے ایک اہم سوال کھڑا کرتی ہے کہ کس طرح مقدار کے بجائے معیار پر مبنی تحقیق کو فروغ دیا جائے تاکہ عالمی سطح پر اعتماد اور ساکھ کو برقرار رکھا جا سکے

مزید پڑھیں