بھارت اور امریکہ کے درمیان تجارتی معاہدے میں تاخیر، پیچیدہ مسائل اور اختلافات برقرار
بھارت اور امریکہ کے درمیان تجارتی معاہدے میں تاخیر، پیچیدہ مسائل اور اختلافات برقرار
نئی دہلی: بھارت اور امریکہ کے درمیان مجوزہ جامع دوطرفہ تجارتی معاہدہ مقررہ وقت پر مکمل نہ ہو سکا، جس کے باعث دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی تعاون کے نئے مرحلے پر پیش رفت سست پڑ گئی ہے۔
تفصیلات کے مطابق دونوں ممالک نے فروری 2025 میں ایک وسیع تجارتی معاہدے پر کام شروع کرنے پر اتفاق کیا تھا، جسے بعد ازاں 2026 کے وسط تک مکمل کرنے کا ہدف رکھا گیا۔ تاہم اب تک نہ حتمی معاہدہ طے پا سکا ہے اور نہ ہی عبوری تجارتی ڈھانچہ عملی شکل اختیار کر پایا ہے۔
ذرائع کے مطابق تاخیر کی بڑی وجوہات میں بھارتی جانب سے روس سے تیل کی مسلسل خریداری، امریکی عدالتوں میں جاری قانونی پیچیدگیاں، اور دونوں ممالک کے درمیان غیر محصولاتی رکاوٹوں پر اختلافات شامل ہیں۔
مذاکرات میں مارکیٹ تک رسائی، ڈیجیٹل تجارت، سپلائی چین کے استحکام، غیر محصولاتی رکاوٹوں میں کمی اور اسٹریٹجک شعبوں میں تعاون جیسے اہم نکات پر بات چیت جاری ہے، تاہم کئی معاملات پر اتفاق رائے اب بھی حاصل نہیں ہو سکا۔
ماہرین کے مطابق یہ معاہدہ دونوں بڑی معیشتوں کے درمیان تجارتی تعلقات کے مستقبل کے لیے انتہائی اہم ہے، لیکن موجودہ اختلافات نے اس کی تکمیل کو غیر یقینی بنا دیا ہے


